تفصیلات کے مطابق امریکی ایئرواسپیس اور دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو اس مجوزہ فروخت کے لیے مرکزی کنٹریکٹر نامزد کیا گیا ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن طویل عرصے سے ایف 16 طیاروں کے ڈیزائن، اپ گریڈ اور دیکھ بھال کے پروگرامز کی ذمہ دار رہی ہے اور دنیا بھر میں ان طیاروں کے بین الاقوامی صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔
یہ فروخت آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور امریکا کے سالانہ مالی قوانین کے تحت فراہم کردہ موجودہ اختیارات کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے۔
امریکی قوانین کے تحت جب کانگریس کو کسی دفاعی فروخت سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا جائے اور مقررہ مدت کے دوران کوئی اعتراض سامنے نہ آئے تو انتظامیہ کو فنڈز جاری اور خرچ کرنے کی اجازت حاصل ہو جاتی ہے۔
اس حوالے سے ڈیفینس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے) نے پاکستان کی جانب سے 68.6 کروڑ ڈالر کی فارن ملٹری سیل کی درخواست کی منظوری دی، جس میں ایف 16 طیاروں کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر اپ گریڈز کے ساتھ ساتھ دیکھ بھال کی معاونت بھی شامل ہے۔ اس فیصلے سے امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا گیا ہے۔
امریکی قانون کے مطابق ڈی ایس سی اے کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد کانگریس کو 30 روزہ لازمی جائزہ مدت دی جاتی ہے، جس دوران اراکین اعتراض اٹھا سکتے ہیں یا لین دین روکنے کے لیے قرارداد پیش کر سکتے ہیں۔ اگر اس مدت میں کوئی اعتراض سامنے نہ آئے، جو عموماً معمول کا عمل ہوتا ہے، تو فروخت کو کانگریس کی منظوری حاصل تصور کیا جاتا ہے۔ علیحدہ ووٹنگ صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب کانگریس مداخلت کا فیصلہ کرے۔
یہ طریقہ کار امریکی اسلحہ منتقلی کے قانونی فریم ورک کا حصہ ہے، جس کے تحت ڈی ایس سی اے کو فارن ملٹری سیلز اور فارن ملٹری فنانسنگ جیسے طریقۂ کار کے ذریعے اس نوعیت کے دفاعی لین دین کا اختیار حاصل ہے۔
یہ پروگرام عموماً خریدار ملک کے اپنے وسائل یا ایسے امریکی قرضوں یا گرانٹس پر انحصار کرتے ہیں جن کی پہلے ہی صدر اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سطح پر منظوری دی جا چکی ہو، جیسا کہ پاکستان کے ایف 16 اپ گریڈ پیکج کے معاملے میں ہے۔







