امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس پیکج کا مقصد پاکستان کے فضائی بیڑے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا قرار دیا ہے۔
امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس منظوری میں جدید Link-16 ٹیکٹیکل ڈیٹا لنک سسٹم شامل ہے، جو طیاروں، زمینی فورسز اور کمانڈ سینٹرز کے درمیان حقیقی وقت میں معلومات کے تبادلے کو ممکن بناتا ہے۔ اس سسٹم کی مدد سے اہداف کی تلاش، ٹریکنگ اور نشانہ بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
US President Donald Trump s administration has approved sales valued at $686 million of technology and equipment for Pakistan’s F-16 fighter jets to modernize its fleet https://t.co/QiMGjsvFH1
— Bloomberg (@business) December 11, 2025
مجوزہ معاہدے میں 92 Link-16 سسٹمز کے علاوہ چھ اینرٹ بم باڈیز بھی شامل ہیں جو ہتھیاروں کی آزمائش کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
کانگریس کے پاس اس اسلحہ فروخت پر نظرِ ثانی کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپ گریڈیشن کے نتیجے میں پاکستان انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اپنی صلاحیت مزید بہتر بنا سکے گا اور مستقبل کی کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ آپریشنز جاری رکھنے کی استعداد برقرار رکھے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایف-16 پروگرام کی اس اپ گریڈیشن کی درخواست 2021 میں کی تھی، لیکن یہ عمل اس وقت سست روی کا شکار ہو گیا تھا جب واشنگٹن نے خطے میں انڈیا کو چین کے مقابلے میں ایک ترجیحی سکیورٹی پارٹنر کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔
The United States has approved a $686 million package to provide advanced technology, equipment, and sustainment support for Pakistan’s F-16 fighter jets.
— Balochistan Pulse (@BalochPulse) December 11, 2025
.#f16 #pakairforce #paf #breakingnews #us #pakistannews #pakarmy #news pic.twitter.com/5MyzKgzjlq
پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 75 ایف-16 طیاروں کا بیڑا موجود ہے۔ امریکی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نئی اپ گریڈیشن سے ان طیاروں کی سروس لائف 2040 تک بڑھ سکے گی۔
امریکی جریدے کے مطابق امریکا اپنے فراہم کردہ ہتھیاروں کے استعمال کی سخت نگرانی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ مئی میں انڈیا کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران پاکستان نے پہلی بار بڑے پیمانے پر اپنے جدید چینی دفاعی نظام، بشمول جے-10 سی لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا تھا۔






