امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس پیکج کا مقصد پاکستان کے فضائی بیڑے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا قرار دیا ہے۔

امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس منظوری میں جدید Link-16 ٹیکٹیکل ڈیٹا لنک سسٹم شامل ہے، جو طیاروں، زمینی فورسز اور کمانڈ سینٹرز کے درمیان حقیقی وقت میں معلومات کے تبادلے کو ممکن بناتا ہے۔ اس سسٹم کی مدد سے اہداف کی تلاش، ٹریکنگ اور نشانہ بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

مجوزہ معاہدے میں 92 Link-16 سسٹمز کے علاوہ چھ اینرٹ بم باڈیز بھی شامل ہیں جو ہتھیاروں کی آزمائش کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

کانگریس کے پاس اس اسلحہ فروخت پر نظرِ ثانی کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپ گریڈیشن کے نتیجے میں پاکستان انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اپنی صلاحیت مزید بہتر بنا سکے گا اور مستقبل کی کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ آپریشنز جاری رکھنے کی استعداد برقرار رکھے گا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایف-16 پروگرام کی اس اپ گریڈیشن کی درخواست 2021 میں کی تھی، لیکن یہ عمل اس وقت سست روی کا شکار ہو گیا تھا جب واشنگٹن نے خطے میں انڈیا کو چین کے مقابلے میں ایک ترجیحی سکیورٹی پارٹنر کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔

پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 75 ایف-16 طیاروں کا بیڑا موجود ہے۔ امریکی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نئی اپ گریڈیشن سے ان طیاروں کی سروس لائف 2040 تک بڑھ سکے گی۔

امریکی جریدے کے مطابق امریکا اپنے فراہم کردہ ہتھیاروں کے استعمال کی سخت نگرانی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ مئی میں انڈیا کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران پاکستان نے پہلی بار بڑے پیمانے پر اپنے جدید چینی دفاعی نظام، بشمول جے-10 سی لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا تھا۔