امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق ان ممالک کے تارکینِ وطن امریکی عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے فنڈز سے استفادہ کر رہے تھے، جس کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق جن ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ روکی گئی ہے، ان میں پاکستان، صومالیہ، روس، ایران، افغانستان، برازیل، نائیجیریا، تھائی لینڈ، عراق، اردن، قازقستان، کویت، کرغزستان، لبنان، لیبیا، نیپال، کانگو، روانڈا، سوڈان، شام،روس،  تنزانیہ، ازبکستان سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ معطلی 21 جنوری سے نافذ ہوگی۔ دنیا بھر میں موجود امریکی سفارت خانوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جب تک محکمۂ خارجہ امیگریشن کے موجودہ طریقۂ کار کا مکمل جائزہ نہیں لے لیتا، مروجہ قوانین کے تحت ویزے جاری نہ کیے جائیں۔ اس عمل کے لیے کوئی مدت بھی مقرر نہیں کی گئی۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے اب تک متاثرہ ممالک کی حتمی فہرست جاری نہیں کی، تاہم ایک ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ امیگریشن کی درست اسکریننگ اور جانچ کے نظام کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ خاص طور پر ایسے درخواست دہندگان کی چھان بین ضروری ہے جو مستقبل میں امریکی عوامی فوائد یا ویلفیئر پروگراموں پر انحصار کرنے کا امکان رکھتے ہوں۔

وزارتِ خارجہ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معطلی کے دوران قونصلر افسران کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ موجودہ قوانین کے تحت ویزا درخواستیں نامنظور کریں اور نئے طریقۂ کار کے مکمل ہونے تک مزید درخواستیں بھی قبول نہ کریں۔

یاد رہے کہ امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ کی یہ معطلی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ ٹرمپ حکومت گزشتہ سال بھی متعدد ممالک کے خلاف امیگریشن پابندیاں اور سخت اسکریننگ ضابطے نافذ کر چکی ہے، جن میں پبلک چارج رول جیسے اقدامات شامل تھے  یعنی وہ درخواست دہندگان جن کے امریکی ویلفیئر سسٹم پر بوجھ بننے کا امکان ہو۔

یہ نیا اقدام خاص طور پر ان ممالک کے شہریوں کے لیے حیران کن قرار دیا جا رہا ہے جہاں سے ویزا حاصل کرنا پہلے نسبتاً آسان تھا، جیسے کہ برازیل اور تھائی لینڈ، جب کہ ایران، افغانستان اور صومالیہ جیسے ممالک پہلے ہی سخت امیگریشن رکاوٹوں کا سامنا کر رہے تھے۔

دوسری جانب امریکی محکمۂ خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا اس بات کو یقینی نہیں بنا لیتا کہ نئے آنے والے تارکینِ وطن امریکی عوام کی دولت سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔

محکمۂ خارجہ کے مطابق ان ممالک سے آنے والے متعدد افراد امریکا پہنچتے ہی ریاست پر مالی بوجھ بن جاتے ہیں۔