عالمی خبررساں اداروں کے مطابق کیف میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زیلنسکی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ موسمِ گرما کے آغاز تک جنگ کا خاتمہ ہو جائے اور اسی ٹائم لائن کے مطابق فریقین پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ ان کے یہ بیانات ہفتے کی صبح تک شائع نہ کرنے کی شرط کے ساتھ دیے گئے تھے۔
زیلنسکی کے مطابق امریکا نے تجویز دی ہے کہ یوکرین، روس اور امریکا کے درمیان آئندہ سہ فریقی مذاکرات اگلے ہفتے پہلی بار امریکی سرزمین پر منعقد کیے جائیں، جن کے میامی میں ہونے کا امکان ہے۔ یوکرین نے ان مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ روس نے امریکا کو 12 کھرب ڈالر کی ایک اقتصادی تجویز پیش کی ہے، جسے انہوں نے روسی مذاکرات کار کیریل دمتریئیف کے نام پر ’دمتریئیف پیکیج‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ دوطرفہ اقتصادی معاہدے بھی مجموعی مذاکراتی عمل کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے جاری ہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ ہفتے کی شب روس نے 400 سے زائد ڈرونز اور تقریباً 40 میزائل داغے، جن کا ہدف بجلی کا نظام، پیداواری تنصیبات اور ترسیلی نیٹ ورک تھے۔
یوکرین کی سرکاری توانائی ترسیلی کمپنی اوکراینرگو نے بتایا کہ رواں سال کے آغاز کے بعد یہ توانائی کے شعبے پر دوسرا بڑا حملہ ہے، جس میں آٹھ علاقوں میں واقع آٹھ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا غزہ کے معاملے پر ’بورڈ آف پیس‘ کا اجلاس 19 فروری کو منعقد کرنے پر غور، رائٹرز
کمپنی کے مطابق میزائل حملوں کے باعث ایٹمی بجلی گھروں کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑی، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بجلی کی قلت میں نمایاں اضافہ ہو گیا اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے۔
جون کی یہ ڈیڈ لائن امریکا کی ثالثی میں ابوظہبی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے، جو کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے۔
روس بدستور یوکرین پر زور دے رہا ہے کہ وہ مشرقی ڈونباس کے علاقے سے دستبردار ہو جائے، تاہم کیف نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ڈونباس پر یوکرین کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے اور مشکل ترین معاملات صرف سربراہان کی سطح پر ہی حل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زاپوریزہیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے انتظام پر بھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا، جب کہ امریکا کی جانب سے ڈونباس کو فری اکنامک زون بنانے کی تجویز پر بھی شکوک پائے جاتے ہیں۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر پابندی کے لیے جنگ بندی کی تجویز دی ہے، جس پر یوکرین عمل کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ روس بھی اس کی پاسداری کرے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی ایک ہفتے کی جنگ بندی صرف چار دن بعد روسی خلاف ورزیوں کی نذر ہو گئی تھی۔







