ایرانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 11 دنوں کے دوران مختلف شہروں میں تقریباً 10 ہزار شہری مقامات پر حملے کیے گئے، حملوں میں 1300 سے زائد شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ حملوں کے دوران دارالحکومت تہران میں بھی کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، مختلف علاقوں میں فضائی حملوں اور دھماکوں کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ان  کا کہنا ہے کہ حملوں میں صرف عسکری اہداف ہی نہیں بلکہ شہری انفراسٹرکچر اور رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، متاثرہ مقامات میں رہائشی عمارتیں، سڑکیں اور دیگر شہری سہولیات شامل ہیں۔
ادھر امریکی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے متعدد بحری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 16 ایسے بحری جہاز تباہ کیے گئے جو بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے اور عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کی گئی۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگی کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور علاقائی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔