ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق غلام حسین محسنی اژہ ای نے کہا کہ امریکا کے بارے میں ایرانیوں کی بداعتمادی کسی جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ماضی کے تجربات اور واقعات سے جڑی ہوئی ہے۔
چیف جسٹس نے گزشتہ برس ہونے والی اس جنگ کا حوالہ بھی دیا جسے ایرانی حکام 12 روزہ جنگ قرار دیتے ہیں اور کہا کہ ان واقعات نے امریکی پالیسیوں کے حوالے سے ایرانی مؤقف کو مزید مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے جاری علاقائی کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے ادشمنوں کی قیادت کو ختم کرنے اور جارح قوتوں کے ہاتھ کاٹنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ بیان ایران کے سرکاری مؤقف کی عکاسی کرتا ہے جو حالیہ علاقائی تنازعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
Iran’s Top Judge: ‘We Do Not Trust Americans at All’
— Tasnim News Agency (@Tasnimnews_EN) June 13, 2026
The Islamic Republic’s judiciary chief marked the anniversary of the 12-day Sacred Defense against Israeli regime s war, emphasizing absolute distrust in the United States. https://t.co/DvHqblcV1L
دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران کے قریب ضلع پیشوا میں ایک انٹیلی جنس آپریشن کے دوران ایک مشتبہ جاسوس کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ایران میں انسدادِ جاسوسی اور داخلی سلامتی کے اقدامات میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔






