عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے سعودی عرب کو ایف-35 کی ممکنہ فروخت کا اعلان کیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو دیے جانے والے طیارے جدید ہتھیاروں کے نظام، الیکٹرانک وارفیئر آلات اور دیگر اپ گریڈز سے محروم ہوں گے، جو اس وقت اسرائیلی بیڑے کا حصہ ہیں۔
اسرائیل کو اپنے ایف-35 طیاروں میں ترمیم کرنے کے خصوصی اختیارات حاصل ہیں، جن کے تحت وہ بغیر امریکی منظوری کے اپنے ہتھیاروں کے نظام، ریڈار جیمنگ سسٹمز اور دیگر ٹیکنالوجی کو شامل یا اپ گریڈ کر سکتا ہے۔
The U.S. will sell downgraded F-35s to Saudi Arabia, keeping Israel’s military edge. Saudi jets lack advanced weapons, EW systems, and AIM-260 missiles. Israel still opposes the sale. Source: Reuters pic.twitter.com/IHtISEn0dM
— Intel Net (@IntelNet0) November 20, 2025
اس کے باوجود اسرائیلی فضائیہ نے اس مجوزہ سعودی معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں اسرائیل کی فضائی برتری متاثر ہو سکتی ہے۔
مچل انسٹیٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس برکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو اگر ایف-35 طیارے مل بھی جاتے ہیں، تب بھی امکان ہے کہ امریکا اسے AIM-260 JATM میزائل فراہم نہیں کرے گا، جو ایف-35 کے لیے تیار کی جانے والی سب سے حساس اگلی نسل کی فضا سے فضا میں مار کرنے والی ٹیکنالوجی ہے۔
یہ میزائل، جو 120 میل سے زیادہ فاصلے تک مار کر سکتا ہے، غالباً صرف اسرائیل کو ہی دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ایف-35 طیارے ہر ملک کے لیے منفرد سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی پیکج کے ساتھ تیار کیے جاتے ہیں۔
امریکا خود سب سے زیادہ جدید ورژن رکھتا ہے، جب کہ اتحادی ممالک کو اس سے کم تر درجے کی صلاحیت کے طیارے دیے جاتے ہیں۔
اسی پالیسی کے تحت سعودی عرب کے لیے بھی ایسا ورژن تیار کیا جائے گا جو اسرائیل کے ایف-35 سے کم درجے کا ہو گا۔
اس وقت اسرائیل ایف-35 کے دو اسکواڈرن چلا رہا ہے جب کہ تیسرا آرڈر پر ہے۔ سعودی عرب کو زیادہ سے زیادہ دو اسکواڈرن فراہم کیے جائیں گے، وہ بھی کئی سالوں میں۔
🚨🇺🇸🤝🇸🇦 US to sell F-35s to Saudi Arabia, but with a twist: these jets will come with downgraded capabilities to preserve Israel s military edge.
— WAR (@warsurveillance) November 20, 2025
🔹No latest-gen upgrades
🔹No advanced electronic warfare systems
🔹No next-gen AIM-260 missiles
Saudi skies are getting F-35s, but… pic.twitter.com/1p9Y3fA3gG
مزید یہ کہ اسرائیل گزشتہ آٹھ برس سے اس طیارے کا واحد علاقائی استعمال کنندہ رہا ہے، جس نے اسے نظام اور صلاحیتوں کے استعمال میں نمایاں تجرباتی برتری عطا کی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق سعودی عرب کے لیے کسی بھی دفاعی فروخت کی حتمی منظوری کانگریس دیتی ہے اور کانگریس میں اسرائیل کی مضبوط حمایت کے باعث یہ عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل ایک جانب سعودی عرب کو ابراہیمی معاہدوں میں شامل کرنا چاہتا ہے اور دوسری جانب امریکا کے ساتھ سفارتی تناؤ سے بچنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
کانگریس دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے ذریعے اگر مخالفت کرے تو صدارتی ویٹو کو بھی کالعدم قرار دے سکتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔
یاد رہے کہ یہ فروخت سعودی عرب کو خطے میں قطر اور متحدہ عرب امارات کے برابر لے آئے گی، جنہیں ایف-35 کی پیشکش تو کی گئی تھی تاہم ڈیلیوری معاہدے، ٹیکنالوجی کی حساسیت اور چین تک ممکنہ رسائی جیسے تحفظات کے باعث وہ معاہدے اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔






