سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا (آئی آر این اے) کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی بحران میں سب سے اہم فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ جنگ کب روکی جائے اور مذاکرات کب شروع کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کا اختتام یا تو مکمل فوجی فتح سے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے، تاہم مذاکرات اسی وقت مؤثر ہوتے ہیں جب فوجی اور تزویراتی لحاظ سے مضبوط پوزیشن حاصل ہو۔

عباس عراقچی نے کہا کہ عوام کی جانوں اور ملک کے مستقبل سے متعلق فیصلے انتہائی محتاط انداز میں اور مکمل معلومات کی بنیاد پر کیے جانے چاہییں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت کو مسلسل یہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے مزید فوائد حاصل ہوں گے یا اس کی انسانی اور قومی قیمت زیادہ ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بعض نقصانات کے باوجود ایران اس جنگ کے دوران ایک مؤثر عالمی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے اپنے نظام کی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی تازہ کارروائی میں کویت کے علی السالم ایئربیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

مزید پڑھیں: اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران پر شدید بمباری، کیا جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی؟

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے میں ابتدائی انتباہی ریڈار نظام تباہ کر دیا گیا، جب کہ دیگر حملوں میں فضائی آلات کے گودام اور امریکی MQ-9 ڈرونز رکھنے والے ہینگر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد طیاروں میں آگ لگ گئی۔

واضح رہے کہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور تاحال امریکا یا کویت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔