عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار جنگ بندی معاہدے میں توسیع نہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ایران پر سیزفائر ڈیل کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بقول، اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکی فوج اس پر بمباری کے لیے تیار بیٹھی ہے اور ان کے حکم کی منتظر ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ نائب صدر کی قیادت میں امریکی وفد پاکستان کے لیے روانہ ہو چکا ہے اور ایرانی وفد بھی وہاں پہنچ جائے گا۔

تاہم اب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں بتایا ہے کہ امریکا سے مذاکرات کے نئے دور کے لیے وفد کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ امریکا نے اب تک ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی ہے۔

اسماعیل بقائی نے امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے اور صدر ٹرمپ کی ایران میں شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی دھمکیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی اور پاکستان میں مذاکرات کا پہلا دور نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ شروع کیا تھا، تاہم حریف مذاکراتی فریق (امریکا) میں سنجیدگی اور نیک نیتی کی کمی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ بار بار نہ صرف اپنی پوزیشن اور بیانات تبدیل کر رہے ہیں بلکہ جنگی جرائم کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں اسماعیل بقائی نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکا کو ایران کی کون سی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

البتہ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شرائط پر ایرانی حکام کے درمیان ابھی مشاورت جاری ہے، جس میں مذاکرات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ بھی کیا جائے گا۔