اخبار نے اپنی رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) کو حالیہ شکست نے امریکی محکمہ دفاع کو شام میں امریکی فوجی مشن کی افادیت پر ازسرِنو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر جاری مشاورت میں مختلف ممکنہ منظرنامے زیرِ غور ہیں، جن میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی سے لے کر مکمل انخلا تک کے آپشنز شامل ہیں۔

ان امکانات کے اثرات کا جائزہ داعش کے خلاف کارروائیوں، شمالی اور مشرقی شام میں سیکیورٹی توازن اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں لیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا، جب کہ مباحثے اب بھی سیکیورٹی اور سیاسی اندازوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں مقامی فورسز کے ساتھ مستقبل کے روابط، انتہا پسند گروہوں کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات، اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کردار سے متعلق وسیع تر امور شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ شامی سرکاری فورسز بعض ایسے مقامات کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہیں جہاں امریکی افواج موجود تھیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں کُردوں کے خلاف کارروائیاں جاری تھیں۔ اس دوران کم از کم ایک امریکی ڈرون کو امریکی تنصیبات کے قریب مار گرایا گیا۔

ایک اہلکار نے مزید بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شامی فورسز نے "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" کے کیمپوں پر حملے کیے، جو ایسے اہم مراکز میں قائم ہیں جہاں امریکی موجودگی بھی رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چند روز قبل امریکا نے تقریباً نو ہزار قیدیوں میں سے سات ہزار قیدیوں کو عراق منتقل کرنا شروع کر دیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ سابق جنگجو اور ان کے اہلِ خانہ حکومتی کنٹرول کے دوران قید خانوں سے فرار ہو سکتے ہیں۔