اخبار نے اپنی رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) کو حالیہ شکست نے امریکی محکمہ دفاع کو شام میں امریکی فوجی مشن کی افادیت پر ازسرِنو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر جاری مشاورت میں مختلف ممکنہ منظرنامے زیرِ غور ہیں، جن میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی سے لے کر مکمل انخلا تک کے آپشنز شامل ہیں۔
ان امکانات کے اثرات کا جائزہ داعش کے خلاف کارروائیوں، شمالی اور مشرقی شام میں سیکیورٹی توازن اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں لیا جا رہا ہے۔
As Syrian government forces advance against the Kurdish-led SDF, The Wall Street Journal reported that the U.S. is weighing a full troop withdrawal from Syria and the closure of its remaining bases, a move that would effectively end the American military presence in the country. pic.twitter.com/S6dK4CybkG
— Moshe Schwartz (@YWNReporter) January 23, 2026
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا، جب کہ مباحثے اب بھی سیکیورٹی اور سیاسی اندازوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں مقامی فورسز کے ساتھ مستقبل کے روابط، انتہا پسند گروہوں کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات، اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کردار سے متعلق وسیع تر امور شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ شامی سرکاری فورسز بعض ایسے مقامات کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہیں جہاں امریکی افواج موجود تھیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں کُردوں کے خلاف کارروائیاں جاری تھیں۔ اس دوران کم از کم ایک امریکی ڈرون کو امریکی تنصیبات کے قریب مار گرایا گیا۔
ایک اہلکار نے مزید بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شامی فورسز نے "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" کے کیمپوں پر حملے کیے، جو ایسے اہم مراکز میں قائم ہیں جہاں امریکی موجودگی بھی رہی ہے۔
The US is considering a “complete withdrawal” of troops from Syria following the collapse of the YPG/SDF terror organization as President Ahmed al-Sharaa moved to wrest control of the northeastern part of Syria, the Wall Street Journal reported Thursday.
— Middle East Monitor (@MiddleEastMnt) January 23, 2026
“The head-spinning… pic.twitter.com/aUBB8Y9yxE
رپورٹ کے مطابق چند روز قبل امریکا نے تقریباً نو ہزار قیدیوں میں سے سات ہزار قیدیوں کو عراق منتقل کرنا شروع کر دیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ سابق جنگجو اور ان کے اہلِ خانہ حکومتی کنٹرول کے دوران قید خانوں سے فرار ہو سکتے ہیں۔






