یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین کی جانب سے تائیوان پر فوجی دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
یہ اسلحہ معاہدہ موجودہ امریکی صدر کی انتظامیہ کے تحت دوسرا بڑا دفاعی پیکج ہے۔ بیجنگ تائیوان پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے، تاہم تائیوان کی حکومت ان دعوؤں کو مسترد کرتی ہے۔
تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں آٹھ اقسام کے ہتھیار شامل ہیں، جن میں ہیمارس راکٹ سسٹمز، ہاوٹزر توپیں، جیولن اینٹی ٹینک میزائل، آلٹیئس خودکار ڈرونز اور دیگر دفاعی سازوسامان کے پرزے شامل ہیں۔ وزارت نے کہا کہ امریکا تائیوان کو اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے، مؤثر دفاعی طاقت قائم کرنے اور غیر متوازن جنگی حکمت عملی اپنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔
بیان کے مطابق یہ پیکج اس وقت امریکی کانگریس کو باضابطہ اطلاع کے مرحلے میں ہے، جہاں قانون ساز اس معاہدے کو روکنے یا اس میں ترمیم کا اختیار رکھتے ہیں، تاہم تائیوان کے حق میں امریکی سیاست میں وسیع جماعتی حمایت موجود ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے کہا کہ یہ اسلحہ فروخت امریکا کے قومی، معاشی اور سیکیورٹی مفادات کے مطابق ہے اور اس سے تائیوان کی مسلح افواج کی جدید کاری اور قابل اعتماد دفاعی صلاحیت کو تقویت ملے گی۔
امریکا کے کہنے پر تائیوان اپنی فوج کو اس انداز میں تبدیل کر رہا ہے کہ وہ غیر متوازن جنگی صلاحیت رکھ سکے، جس میں نسبتاً چھوٹے، متحرک اور کم لاگت ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے، جیسے ڈرونز۔
تائیوان کے صدارتی دفتر کی ترجمان کیرن کوؤ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک دفاعی اصلاحات جاری رکھے گا، معاشرتی سطح پر دفاعی استحکام کو مضبوط بنائے گا اور اپنی حفاظت کے عزم کا مظاہرہ کرے گا۔ انہوں نے امریکا کا شکریہ بھی ادا کیا۔
گزشتہ ماہ تائیوان کے صدر نے 2026 سے 2033 تک کے لیے 40 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
چین کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس پیش رفت پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
امریکا تائیوان بزنس کونسل کے صدر روپرٹ ہیمنڈ چیمبرز نے کہا کہ ہیمارس جیسے ہتھیار، جو یوکرین میں روسی افواج کے خلاف استعمال ہو چکے ہیں، کسی بھی ممکنہ چینی حملے کی صورت میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ریکارڈ نوعیت کا دفاعی پیکج چین کی جانب سے لاحق خطرے اور امریکی دباؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کا مقصد اتحادیوں کو اپنی دفاعی ذمہ داریاں بڑھانے پر آمادہ کرنا ہے۔







