سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آج کے یورپ کو نہیں پہچانتے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یورپ سے محبت ہے، میں اسے ترقی کرتے دیکھنا چاہتا ہوں، لیکن یہ درست سمت میں نہیں جا رہا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ کسی کی توہین نہیں کرنا چاہتے، تاہم جب ان کے دوست یورپ سے واپس آتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ وہ اس یورپ کو نہیں پہچانتے جو کبھی ہوا کرتا تھا۔

عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، ریکارڈ بجٹ خسارے اور تجارتی خساروں کا بھی ذکر کیا اور انہیں یورپ کے لیے سنگین مسائل قرار دیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوری مذاکرات چاہتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکی صدور تقریباً دو صدیوں سے گرین لینڈ خریدنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، اور یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ میں ڈنمارک کی کوئی مؤثر موجودگی نہیں اور ڈنمارک اس خطے پر اتنا خرچ نہیں کر رہا جتنا اس نے وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ صرف امریکا ہی ہے جو اس وسیع خطۂ زمین، اس بڑے برفانی ٹکڑے کو محفوظ بنا سکتا ہے، اسے ترقی دے سکتا ہے اور بہتر بنا سکتا ہے۔

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ وہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے فوری مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے بارے میں بات جاری رکھتے ہوئے اسے ایک وسیع، تقریباً غیر آباد اور غیر ترقی یافتہ خطہ قرار دیا، جو اس وقت غیر محفوظ حالت میں پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی بڑی سیاسی قوت بن گئی:الجزیرہ

انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات سے زیادہ اہم اس کی اسٹریٹجک حیثیت ہے۔ ان کے مطابق اس خطے کی اصل اہمیت قومی سلامتی اور بین الاقوامی سلامتی کے تناظر میں ہے، نہ کہ معدنی وسائل کے حوالے سے۔

امریکی صدر نے کہا کہ آپ ہاں کہہ سکتے ہیں اور ہم بہت شکر گزار ہوں گے، یا آپ نہ کہہ سکتے ہیں اور ہم اسے یاد رکھیں گے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایک مضبوط اور محفوظ امریکا کا مطلب ایک مضبوط نیٹو ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نیٹو کے ساتھ سو فیصد کھڑا ہوگا، تاہم یہ یقین نہیں کیا جا سکتا کہ اتحادی ممالک بھی بدلے میں اسی طرح امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

یوکرین کی جنگ پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو کو یہ جنگ ختم کرنی ہوگی کیونکہ اس میں بہت سے لوگ بلا وجہ جانیں گنوا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی دونوں کسی معاہدے پر پہنچنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے حصول کی کوششیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے نو یورپی ممالک پر ٹیرف بھی عائد کر رکھے ہیں۔

دوسری جانب گرین لینڈ اور ڈنمارک کا مؤقف ہے کہ وہ فروخت کے لیے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنی بقا کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔