ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات برسوں سے تناؤ کا شکار رہے ہیں، اسی لیے کسی بھی بڑے معاہدے تک پہنچنے کے لیے وقت، صبر اور مسلسل مذاکرات درکار ہوں گے،ہ موجودہ صورتحال پیچیدہ ضرور ہے مگر مکمل طور پر مایوس کن نہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں اور موجودہ مذاکراتی عمل میں کچھ مثبت اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ جے ڈی وینس کے مطابق، "ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اعتماد کی بحالی ایک طویل عمل ہے، لیکن ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔"

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اہم بات چیت پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز اس حوالے سے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے گئے۔ اس کے جواب میں ایران نے نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔

جنگ کے نتیجے میں خطے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔ لبنان اور دیگر علاقوں میں جاری کشیدگی نے بھی انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

فی الحال دو ہفتوں پر مشتمل نازک جنگ بندی نافذ ہے، جس کے خاتمے میں ابھی کچھ دن باقی ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ مذاکرات پر مرکوز ہیں، جہاں کسی مستقل حل کی امید کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ فوری پیش رفت مشکل ہے، تاہم سفارتی رابطوں کا تسلسل ہی خطے میں امن کی واحد امید ہے۔