یہ معاہدہ 2010 میں طے پایا تھا جس کا بنیادی مقصد دنیا کو کسی بڑی ایٹمی تباہی سے محفوظ رکھنا تھا۔ نیو اسٹارٹ کے تحت امریکا اور روس اس بات کے پابند تھے کہ وہ اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد 1550 سے زیادہ نہیں بڑھائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ایٹمی مراکز کے معائنے کی اجازت بھی حاصل تھی تاکہ شفافیت برقرار رہے اور اعتماد کا فقدان پیدا نہ ہو۔

اس نوعیت کا پہلا معاہدہ 1991 میں ہوا تھا، جس میں ایٹمی ہتھیاروں کی حد چھ ہزار مقرر کی گئی تھی، تاہم بعد کے معاہدوں کے ذریعے اس تعداد میں بتدریج کمی کی گئی۔ روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق روس آئندہ بھی سفارتی ذرائع سے امن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہے گا، تاہم روسی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اب وہ کسی سابقہ معاہدے کی پابندی کے تحت نہیں آتے اور اپنے آئندہ اقدامات کا فیصلہ آزادانہ طور پر کریں گے۔

اگرچہ حالیہ برسوں میں امریکا اور روس نے طے شدہ حد سے تجاوز نہیں کیا، لیکن معاہدے کے خاتمے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی ایئر بُک 2025 کے مطابق اس وقت روس کے پاس تقریباً 5459 جبکہ امریکا کے پاس 5177 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔

مزید براں نیو اسٹارٹ کے خاتمے سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے عزائم کا درست اندازہ لگانے سے قاصر ہو جائیں گے، جس سے غلط فہمیوں کی بنیاد پر کسی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ایک نہایت نازک لمحہ قرار دیا ہے اور دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر کسی نئے معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکا اور روس کے درمیان کئی اہم دفاعی معاہدے ختم ہو چکے ہیں، جن میں یورپ میں ٹینکوں اور فوجی تعداد کو محدود رکھنے والا معاہدہ بھی شامل ہے۔ اب عالمی برادری کی نظریں اپریل اور مئی میں ہونے والی عالمی کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ایٹمی طاقتوں کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچانے کے لیے کیا عملی اقدامات کر رہی ہیں۔