کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ امریکی وفد دوحہ میں اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے ساتھ ساتھ تکنیکی سطح پر بھی مذاکرات کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا، "صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے لیے دوحہ روانہ ہوں گے، جہاں ہم مفاہمتی یادداشت پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ساتھ ساتھ تکنیکی بات چیت بھی ہوگی۔"
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی جانب سے جنگ بندی کی شرائط پر قائم ہے، تاہم کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، "جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم جنگ بندی کے اپنے حصے پر قائم ہیں۔ تشدد کا جواب تشدد سے ہی دیا جائے گا۔"
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے 17 جون کو 14 نکات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد کئی ماہ سے جاری کشیدگی کا خاتمہ، جنگ بندی کا نفاذ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
تاہم گزشتہ ہفتے ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں نے اس عبوری معاہدے کو خطرے سے دوچار کر دیا۔ جمعرات کو آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی میزائل کے مال بردار جہاز سے ٹکرانے کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے۔
کیرولین لیویٹ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس اینڈ فرینڈز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں پر حملوں کا جواب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر دیا گیا تھا اور اگر ضرورت پڑی تو یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، تاہم امریکی صدر کی خواہش ہے کہ امن عمل کامیاب ہو اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا مستقل حل نکالا جائے۔






