رپورٹ کے مطابق ایک امریکی سرکاری عہدیدار اور چار ممالک کے سفیروں کو اس منصوبے سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈ ریزنگ کانفرنس کے انعقاد کا امکان بھی موجود ہے، تاہم یہ تمام امور ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ اجلاس امریکہ کے انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد کیا جائے گا، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اس سے ایک روز قبل 18 فروری کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے جنوری کے اواخر میں اس بورڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کی صدارت وہ خود کریں گے۔ ان کے مطابق اس بورڈ کا مقصد عالمی تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ اس اقدام سے اقوام متحدہ کے کردار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دنیا بھر کی حکومتوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اس اقدام میں شمولیت کی دعوت پر محتاط ردعمل دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے کچھ اتحادی اس میں شامل ہو چکے ہیں، تاہم کئی روایتی مغربی اتحادیوں نے اس سے فاصلہ اختیار کیا ہے۔
نومبر کے وسط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور ہونے والی ایک قرارداد کے تحت بورڈ اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کو غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس قائم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے منصوبے کے تحت اکتوبر میں ایک نازک جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا، جس پر اسرائیل اور فلسطینی عسکری گروپوں نے دستخط کیے تھے۔
گزشتہ برس کے اواخر میں سامنے آنے والے منصوبے کے مطابق بورڈ کا مقصد غزہ کی عبوری حکومت کی نگرانی کرنا تھا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ عالمی تنازعات سے نمٹنے کے لیے اس کے دائرہ کار میں توسیع کی جائے گی۔
اس حوالے سے کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی علاقے کے معاملات کی نگرانی کے لیے ایسے بورڈ کا قیام نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی سے مشابہ ہے، جبکہ فلسطینیوں کو اس عمل میں شامل نہ کیے جانے پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے۔
اکتوبر میں شروع ہونے والی جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں ساڑھے پانچ سو سے زائد فلسطینیوں اور چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ 2023 کے اواخر میں شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کی پوری آبادی اندرونی طور پر بے گھر ہو گئی ہے اور شدید غذائی بحران بھی پیدا ہو چکا ہے۔
انسانی حقوق کے کئی ماہرین، اسکالرز اور اقوام متحدہ اس صورتِ حال کو نسل کشی کے مترادف قرار دے چکے ہیں۔







