برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کو انکشاف کیا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے، تاہم بعد میں انہوں نے کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ’میں آج حملہ کرنے کے فیصلے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھا۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت معاہدے کے لیے منتیں کر رہی ہے، تاہم واضح کیا کہ اگر کوئی ڈیل نہ ہو سکی تو امریکہ آنے والے دنوں میں دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔

خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور صورتحال کی حساسیت پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا، ’دیکھیں، میرا مطلب ہے دو یا تین دن، شاید جمعہ، سنیچر، اتوار یا پھر اگلے ہفتے کے آغاز تک۔۔۔ وقت محدود ہے کیونکہ ہم انہیں نیا جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ یہ بتا چکے ہیں کہ انہوں نے منگل کو ایران پر متوقع فوجی حملہ مؤخر کر دیا تھا جبکہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔

پیر کے روز صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکہ دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی صدر کے مطابق حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک کی درخواست پر کیا گیا تاکہ ’سنجیدہ مذاکرات‘ کے لیے وقت فراہم کیا جا سکے۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب وہ پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے، بصورت دیگر دوبارہ جنگ چھڑ سکتی ہے۔

اگرچہ انہوں نے ممکنہ حملے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم کہا کہ امریکی فوج کو ہدایت دے دی گئی ہے کہ اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ طے نہ پایا تو ایران پر ’مکمل اور بڑے پیمانے‘ کے حملے کے لیے فوری طور پر تیار رہا جائے۔