میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے ہیں، تاہم جب ملک کی سلامتی اور خودمختاری کو خطرات لاحق ہوں تو دفاعی اقدامات کرنا ہر ریاست کا بنیادی حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، کیونکہ امریکی حکام نے متعدد مواقع پر اس معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں، جب تک دوسرا فریق اپنی ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کرتا، ایران بھی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو آگے بڑھانے کا پابند نہیں ہوگا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا نے نہ صرف مفاہمتی یادداشت کی شرائط کی خلاف ورزی کی بلکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی جانب سے دی گئی ایک ماہ کی مہلت مکمل ہونے سے قبل ہی ایسے اقدامات کیے جن سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد مزید متاثر ہوا۔
اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ سے متعلق عمان کے ساتھ مشترکہ طریقۂ کار وضع کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں بحری آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے، تاہم ان کے بقول عمان پر امریکی دباؤ کے باعث ان کوششوں میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔
مزید پڑھیں: امریکی بمباری کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک پر میزائل حملے، اب تک کتنا نقصان ہوا؟
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں استحکام اور امن کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی بیرونی دباؤ یا یکطرفہ اقدامات کو قبول نہیں کرے گا، اگر امریکا معاہدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے تو کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی راستے اب بھی موجود ہیں۔
ایرانی ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مؤثر سفارتی کوششوں کی حمایت کرے۔







