بریڈ کوپر کا کہنا تھا کہ  پروجیکٹ فریڈم  کے نام سے جاری آپریشن کے دوران امریکی افواج نے چھ ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنا کر ڈبو دیا، جو تجارتی بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

کمانڈر کے مطابق اس آپریشن کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے کروز میزائلوں اور ڈرونز کو بھی روکا گیا، جب کہ امریکی بحریہ نے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کیا۔

ایڈمرل کوپر نے کہا کہ انہوں نے ایرانی فورسز کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی فوجی اثاثوں کے قریب نہ آئیں۔ امریکا خطے میں جاری اپنی بحری کارروائیوں کے ذریعےآبنائے ہرمز کو بحال اور محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے جنگی بحری جہاز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ خلیجی پانیوں میں 87 ممالک کے بحری جہاز موجود ہیں، اور امریکہ ان کی حفاظت یقینی بنا رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، جب کہ خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔