امریکی اخبار دی واشنگٹن ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کی صبح معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا تھا اور اس کا باضابطہ اعلان آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر کیا جا سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق مذاکرات کاروں، جن میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں، نے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ امن معاہدے کے مسودے کو حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی قیادت کو بھیج دیا گیا ہے۔
#BREAKING
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 23, 2026
The US and Iran are expected to announce a draft peace deal within 24 hours after top negotiators approved the proposal and sent it to leaders of both countries for final approval, Washington Times reports.#USIranTalks #WashingtonTimes #MiddleEastTensions… pic.twitter.com/DKhIuTEo50
اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو سکتی ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ نئے حملوں کا امکان اب بھی موجود رہ سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔ یہ بھی غیر واضح ہے کہ اہم اختلافی نکات، بشمول ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل اور پابندیوں میں نرمی کے مطالبات، کس طرح حل کیے جائیں گے۔ دونوں فریقین کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقہ کار پر بھی اتفاق کرنا ہوگا۔






