خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز جنوبی بحیرہ چین میں امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر اور لڑاکا طیارے کو علیحدہ علیحدہ حادثات پیش آئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
South China Sea – On October 26, 2025 at approximately 2:45 p.m. local time, a U.S. Navy MH-60R Sea Hawk helicopter, assigned to the “Battle Cats” of Helicopter Maritime Strike Squadron (HSM) 73 went down in the waters of the South China Sea while conducting routine operations
— U.S. Pacific Fleet (@USPacificFleet) October 26, 2025
پہلا حادثہ ایک ایم ایچ-60 آر سی ہاک ہیلی کاپٹر کے ساتھ پیش آیا جو طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نیمٹز سے معمول کی پرواز کے دوران سمندر میں گر گیا۔ امریکی بحریہ کے بحرالکاہل بیڑے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار تینوں اہلکاروں کو سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا۔
امریکی بحریہ کے مطابق تقریباً آدھے گھنٹے بعد یو ایس ایس نیمٹز سے ہی معمول کی کارروائی کے دوران ایک ایف/اے-18 ایف سپر ہارنیٹ لڑاکا طیارہ بھی جنوبی بحیرہ چین میں گر کر تباہ ہوگیا۔
بیان میں کہا گیا کہ طیارے میں موجود دونوں اہلکاروں نے حادثے سے قبل خود کو باہر نکال لیا اور انہیں بھی بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔
امریکی بحریہ کے مطابق تمام اہلکار محفوظ ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے، جب کہ دونوں واقعات کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
from the aircraft carrier USS Nimitz (CVN 68). Search and rescue assets assigned to Carrier Strike Group 11 safely recovered all three crew members.
— U.S. Pacific Fleet (@USPacificFleet) October 26, 2025
Following the incident, separately, at 3:15 p.m., an F/A-18F Super Hornet fighter assigned to the “Fighting Redcocks”
یہ حادثات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دورِ صدارت کے دوران پہلی مرتبہ ایشیا کے دورے پر ہیں، جب کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بھی جلد اپنے کئی ملکی ایشیائی دورے کا آغاز کرنے والے ہیں۔
اس سے قبل رواں سال امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ہیری ایس ٹرومین سے بھی دو جنگی طیارے مشرقِ وسطیٰ میں آپریشن کے دوران سمندر میں گر گئے تھے۔







