امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایک طویل تعطل کے بعد اس جہاز کا کنٹرول حاصل کیا۔ امریکی فوج کے مطابق ایرانی پرچم بردار یہ جہاز بندر عباس کی جانب جا رہا تھا جب اسے روک کر فائرنگ کی گئی اور ناکارہ بنانے کے بعد میرینز نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اس پر قبضہ کیا۔

ایران کی فوج نے اس کارروائی کو “مسلح قزاقی” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ جہاز چین سے روانہ ہوا تھا اور انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اس پیش رفت نے سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت نہیں کرے گا، جسے امریکا جنگ بندی کے خاتمے سے قبل شروع کرنا چاہتا تھا۔ تہران کا کہنا ہے کہ مسلسل پابندیاں، دھمکیاں اور امریکی مطالبات میں تبدیلی اس فیصلے کی وجہ ہیں۔

اس تنازع نے عالمی توانائی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک پانچواں تیل گزرتا ہے، کے اطراف دونوں ممالک کی پابندیوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ ایران کی تیل برآمدات کو محدود کر کے دیگر ممالک کو آزاد رسائی دینا ناقابل قبول ہے اور اس کے عالمی منڈیوں پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران امریکی شرائط مسترد کرتا ہے تو اس کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات سمیت توانائی اور پانی کے مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، تاہم صدر ٹرمپ کے متضاد بیانات کے بعد اس حوالے سے ابہام پیدا ہو گیا ہے۔

پاکستان، جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی سامان لے جانے والے کارگو طیارے پاکستان پہنچ چکے ہیں جبکہ اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اہم مقامات کے اطراف حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔

اگرچہ ابتدائی طور پر کچھ پیش رفت کی امید ظاہر کی جا رہی تھی، تاہم ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان بڑے اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ یورپی اتحادیوں نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جلد بازی میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ کمزور ہو سکتا ہے اور مزید مذاکرات کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

آٹھویں ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی اور علاقائی استحکام کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بعد خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات وسیع اور دور رس ہو سکتے ہیں۔