سوال یہ ہے کہ ایران نے کن مقامات کو نشانہ بنایا، اب تک کتنا نقصان ہوا، خطے کے ممالک نے کیا ردعمل دیا، آبنائے ہرمز کی حیثیت کیا ہے اور یہ کشیدگی آگے کس رخ جا سکتی ہے؟

کیا ہوا؟

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے مختلف علاقوں میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور سمندری کشیدگی کے بعد کی گئی۔

اس کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت میں امریکی ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا، اردن میں امریکی فوجی اڈے کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگرز تباہ کیے، قطر میں امریکی فضائی اڈے کی تنصیبات پر حملہ کیا اور عمان کی بندرگاہ دقم میں امریکی بحری معاونت کے مراکز کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب قطر، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، اردن اور عمان نے مختلف سطح پر ان حملوں کی تصدیق کی، تاہم متعدد ممالک نے کہا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

کن ممالک کو نقصان پہنچا؟

ابتدائی اطلاعات کے مطابق قطر میں گرنے والے ملبے سے تین افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ اردن میں تین ایرانی میزائل گرے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے فضائی دفاعی کارروائیاں کیں، عمان کے صوبہ مسندم میں بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

آبنائے ہرمز ایک بار پھر مرکزِ تنازع کیوں؟

ایران نے ایک مرتبہ پھر اعلان کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر دیا ہے۔ یہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر یہاں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتیں، شپنگ اور بین الاقوامی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی دوران ایک کنٹینر شپ جی ایف ایس گلیکسی پر حملہ ہوا جس میں آگ لگ گئی۔ جہاز پر موجود 11 انڈین شہریوں میں سے 10 کو بچا لیا گیا جب کہ ایک لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔

ایران نے خلیجی ممالک کو کیوں نشانہ بنایا؟

ایران کا مؤقف ہے کہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے امریکا کی فوجی کارروائیوں کا حصہ بن رہے ہیں، اس لیے وہ انہیں  جائز فوجی اہداف  سمجھتا ہے۔ دوسری جانب خلیجی ممالک کا کہنا ہے کہ ان کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا ہے اور وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

کیا جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے؟

حالیہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ تنازع اب صرف ایران اور اسرائیل یا ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہا۔

اگر امریکی حملے جاری رہے تو مزید امریکی اڈے نشانہ بن سکتے ہیں، آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر بند ہو سکتی ہے، عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور خلیجی ممالک براہِ راست جنگ میں کھنچے جا سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال کیا ہے؟

امریکا نے ایران پر فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔ ایران نے خطے میں امریکی مفادات پر جوابی حملے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد خلیجی ممالک ہائی الرٹ پر ہیں۔ عالمی بحری جہاز رانی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق آئندہ چند دن انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں فریق حملے جاری رکھتے ہیں تو یہ تنازع صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر سفارتی رابطے کامیاب ہوئے تو محدود جنگ بندی یا نئے مذاکرات کی راہ بھی نکل سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں خطے پر غیر یقینی کے سائے بدستور منڈلا رہے ہیں۔