فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اس عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی بی ایس کی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جنرل رینڈی جارج کو فوری طور پر ریٹائرمنٹ لینے کا کہا گیا ہے۔
اس اقدام کی فوری وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیرِ جنگ ایسے فرد کو اس عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وژن کے مطابق فوجی قیادت کو آگے بڑھا سکے۔
پینٹاگون کے ترجمان سین پارنیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل رینڈی جارج عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، تاہم اس کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔
جنرل رینڈی جارج صدر ٹرمپ کے دوسرے دور میں عہدے سے ہٹائے جانے والے سینیئر فوجی افسران میں شامل ہوں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں مصروف ہے اور صدر ٹرمپ اس تنازع کے مزید کئی ہفتوں تک جاری رہنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
تقریباً چالیس سال پر محیط اپنے فوجی کیریئر میں جنرل رینڈی جارج عراق اور افغانستان میں متعدد تعیناتیوں پر فائز رہے، جبکہ جو بائیڈن کے دور میں انہوں نے فوج کے نائب سربراہ اور پینٹاگون میں سینیئر عسکری معاون کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا چکے ہیں۔ فروری 2025 میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل چارلس سی کیو براؤن کو بھی بغیر کسی وضاحت کے برطرف کیا گیا تھا۔
دیگر سینیئر افسران میں بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے سربراہان، نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر، ایئر فورس کے وائس چیف آف سٹاف اور نیٹو سے متعلق ایک ایڈمرل سمیت کئی اعلیٰ فوجی عہدیدار شامل ہیں جنہیں عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے یا انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی۔
وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی ٹیم میں ایسے افراد کو شامل کر رہے ہیں جو ان کی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہوں، تاہم ڈیموکریٹ قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل سے فوج جیسے غیر جانبدار ادارے میں سیاست کے اثرات بڑھ سکتے ہیں۔







