ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ ماضی میں ’نیوکلیئر بلیک میلنگ‘ کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں مشرق وسطیٰ میں استعمال کر چکا ہوتا، جبکہ موجودہ اقدامات کے ذریعے ایرانی حکومت کے خطرات کو کم کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی قیادت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ امریکا کے صدر نہ ہوتے تو ملک کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے جرائم پیشہ عناصر اور قاتلوں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں اور ایسے افراد کو ملک سے نکالا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں امریکا میں داخل ہونے والے خطرناک افراد کے برعکس، موجودہ حکومت جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولے اور کہا کہ امریکا نے اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔
ایران کی قیادت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئے سپریم لیڈر کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں، اور اگر وہ زندہ بھی ہیں تو ممکنہ طور پر مشکل حالات میں ہوں گے۔
اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایک موقع پر نو طیارے گرائے گئے۔ ان کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ جنگ رکوانے میں ان کے کردار کے باعث 30 سے 50 ملین افراد کی جانیں بچائی گئیں۔







