امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے وسطی شام میں داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی آپریشن شروع کر دیا ہے، جس میں لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے داعش کے اہم مراکز، اسلحہ ڈپوؤں اور عسکری تنصیبات کے خلاف کیے گئے، جب کہ کارروائی کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق اس کارروائی کو "آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک" کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد داعش کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے شام کے قدیم شہر تدمر (پالمیرا) کے قریب مشترکہ گشت کے دوران فائرنگ کے واقعے میں 2 امریکی فوجیوں سمیت 3 امریکی شہری ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد امریکا کی جانب سے سخت ردعمل کی توقع کی جا رہی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں فضائی حملوں کے بعد کہا کہ داعش کے خلاف وعدے کے مطابق بھرپور کارروائی جاری ہے، اور امریکا پر حملہ کرنے والوں کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہنا تھا کہ شام کی حکومت امریکی کارروائیوں کی مکمل حمایت کر رہی ہے۔
دوسری جانب شامی حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ ملک میں داعش کے خلاف فوجی آپریشنز جاری رکھے جائیں گے۔







