امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نجی گفتگو میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت جنگ بندی کے مستقبل کے حوالے سے ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں میں وقفہ بدستور برقرار ہے، حالانکہ دونوں فریقوں کے درمیان محدود نوعیت کی جھڑپیں اور کشیدگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

رپورٹ میں امریکی حکام کا حوالہ دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ فی الحال مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور وسیع جنگ سے گریز کے خواہاں ہیں اور اسی وجہ سے وہ نسبتاً محدود نوعیت کے واقعات کو برداشت کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں تاکہ خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم سے بچا جا سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جنگ دوبارہ شروع کرنے میں ہچکچاہٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ چند ہفتوں یا حتیٰ کہ مہینوں تک جاری رہنے والی محدود کشیدگی کو قبول کر سکتے ہیں، بشرطیکہ صورتحال مکمل جنگ کی طرف نہ بڑھے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل میں جبری فوجی بھرتی کی مخالفت میں مظاہرے کیوں ہورہے ہیں؟

واضح رہے کہ پاکستان میٹرز تاحال اس رپورٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کرسکا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے اور جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ خطے میں کسی بھی نئے فوجی تصادم کے امکانات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔