عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ نے وائٹ ہاؤس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی چند روز بعد کی گئی، جب امریکا نے اسی علاقے میں تین کشتیوں پر حملے کر کے 14 افراد کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی تھی۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ "ڈیپارٹمنٹ آف وار" نے ایک اور "نارکو اسمگلنگ ویسل" پر ہلاکت خیز حملہ کیا ہے۔ ہلاک ہونے والے چاروں افراد کو "نارکو دہشت گرد" قرار دیا گیا، جب کہ کشتی ایک نامزد دہشت گرد تنظیم کے زیرِ استعمال تھی۔

انہوں نے کہا کہ کارروائی مشرقی بحرالکاہل کے بین الاقوامی پانیوں میں کی گئی، جہاں یہ کشتی منشیات سے بھری ہوئی ایک معروف اسمگلنگ روٹ پر سفر کر رہی تھی۔ وزیرِ دفاع نے فضائی حملے کی ویڈیو بھی شیئر کی۔

واضح رہے کہ ہلاک افراد کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ماہرین نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور عدالت سے باہر قتل قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے امورِ امریکا میروسلاو جینچا نے سیکیورٹی کونسل میں کہا کہ منظم سرحد پار جرائم سے نمٹنے کی تمام کوششیں بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہونی چاہئیں۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین ملکی ایشیائی دورے کے آخری مرحلے پر تھے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی، جو 2019 کے بعد ان کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔

اس سے قبل پیر کے روز امریکی افواج نے مشرقی بحرالکاہل میں تین کشتیوں پر حملے کر کے 14 افراد کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا تھا۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ محکمہ گزشتہ دو دہائیوں سے دوسروں کی سرزمینوں کا دفاع کر رہا تھا، اب ہم اپنی سرزمین کا دفاع کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’ٹیرف میں دس فیصد کمی‘، ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھنے کو تیار ہوں، چینی صدر

اعداد و شمار کے مطابق 2 ستمبر سے اب تک امریکا 14 سے زائد فضائی حملے کر چکا ہے جن میں تقریباً 15 کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں 61 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ امریکی فوج کی کیریبیئن خطے میں موجودگی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اب تک ان حملوں سے متعلق کسی قسم کے ثبوت یا شواہد عام نہیں کیے۔

ٹرمپ انتظامیہ ان کارروائیوں کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کر رہی ہے کہ مبینہ اسمگلرز غیر قانونی جنگجو ہیں، مگر اس پالیسی کے لیے کانگریس کی منظوری نہیں لی گئی۔