عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ان خیالات کا اظہار صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا، جس میں انہوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور طاقت پر بھی تفصیل سے بات کی۔

صدر ٹرمپ کے بقول ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور ایرانی قیادت کا رویہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچکدار ہو گیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی عسکری کارروائی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ ہمارے پاس دنیا کے جدید ترین جنگی آلات اور اسلحہ موجود ہے، ہمارے اڈے مکمل طور پر تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہم ان کا بھرپور استعمال کریں گے۔

یاد رہے کہ سینٹکام نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر جہاز کو تباہ کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی پرچم بردار دو دیگر تجارتی جہاز اس آبی گزرگاہ کو بحفاظت عبور کر چکے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ کے تازہ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی جہاز کو نشانہ بنانے کے دعوے میں کسی حد تک حقیقت ہو سکتی ہے۔