امریکی کانگریس کی حالیہ اور انتہائی حساس تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی ایئر فورس اور نیوی کے وہ 81 جنگی جہاز یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا پھر انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این اور پینٹاگون کے بجٹ دستاویزات کے مطابق، دفاعی بجٹ سے اب تک کم از کم 45.1 ارب ڈالر اس جنگ کی آگ میں جھونکے جا چکے ہیں۔
کانگریس کی رپورٹ کے مطابق تباہ اور متاثر ہونے والے ان عسکری اثاثوں میں لڑاکا طیارے، اسٹرائیک جیٹس، ہیلی کاپٹر اور جدید ترین ڈرونز شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب اس کا جدید ترین ففتھ جنریشن ایف-35 اے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ تباہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی فضا میں میلوں دور تک دشمن کے اہداف اور میزائلوں پر نظر رکھنے والا امریکی فوج کا 'دماغ' کہلانے والا ایک انتہائی قیمتی ایئر بورن ارلی وارننگ طیارہ ای-تھری سینٹری بھی اس جنگ کی نذر ہو چکا ہے۔

مزید برآں ستمبر کے مہینے میں اردن میں واقع امریکی فوج کے اہم موافق سلطی ایئر بیس پر ہونے والے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں آٹھ ایف-15 اسٹرائیک ایگل جیٹس شدید متاثر ہوئے، جن میں سے چند طیاروں کو شاید ہنگامی مرمت کے بعد دوبارہ سروس میں شامل کر لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی نقصانات کا آدھے سے زیادہ حصہ اس کے سب سے مہنگے اور خطرناک ایم کیو-نائائن ریپر ڈرونز پر مشتمل ہے، جو جاسوسی، نگرانی اور فضا سے زمین پر میزائل داغنے کے لیے پینٹاگون کا بنیادی ہتھیار مانے جاتے ہیں۔
امریکی ایئر فورس کے چیف آف اسٹاف جنرل کینتھ ولس بیک اور دفاعی تجزیہ کاروں نے اعتراف کیا ہے کہ ایم کیو-نائائن ڈرونز ایران کے خلاف جنگ میں امریکی فوج کے سب سے اہم کھلاڑی تھے۔

رپورٹ کے مطابق تاہم یمن کے حوثی باغیوں اور ایرانی فضائی دفاعی نظام کی وجہ سے اس سال مشرقِ وسطیٰ میں 45 ایسے ہائی ٹیک ڈرونز مار گرائے جا چکے ہیں، جو امریکی عسکری تاریخ میں ڈرونز کی تباہی کی سب سے تشویش ناک اور تیز ترین رفتار ہے۔
امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دفاعی شعبے کی جانب سے ان تباہ شدہ 81 طیاروں کی جگہ نئے طیارے خریدنے یا پرانوں کے متبادل تیار کرنے کا فوری خرچ 1.9 ارب ڈالر سے لے کر 3.3 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ 45 ارب ڈالر کے سرکاری جنگی اخراجات میں مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا وہ اربوں ڈالر کا نقصان شامل ہی نہیں ہے جہاں یہ تمام طیارے کھڑے تھے اور ایران نے انہیں بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

اس ہولناک رپورٹ نے واشنگٹن کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے اور امریکی قانون سازوں کے سامنے متعدد اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں پینٹاگون کی نیت اور حکمتِ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیا پینٹاگون کانگریس کو ان نقصانات اور ان کے طویل مدتی اثرات پر اتنی شفاف معلومات فراہم کر رہا ہے جس سے مستقبل کی کوئی ٹھوس حکمتِ عمل طے کی جا سکے؟
رپورٹ میں واضح انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ کانگریس کو فوری طور پر یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ای-تھری سینٹری جیسے مخصوص، انتہائی مہنگے اور محدود تعداد والے جاسوس طیاروں کے نقصان سے دنیا کے دیگر خطوں، جیسے بحرالکاہل میں چین کے خلاف یا مشرقی یورپ میں روس کے خلاف، امریکی دفاعی صلاحیت اور فضائی برتری مستقل طور پر کمزور تو نہیں ہو رہی۔







