اپوزیشن جماعتوں، ان کی طلبہ تنظیموں اور ’کاکروچ‘ یوتھ موومنٹ کی جانب سے تقریباً روزانہ مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں نظرثانی کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن میں حکمران جماعت کی جانب سے مقرر کیے گئے افراد بھی اس عمل میں ملوث ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
گیانیش کمار نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ احتجاج وزیر اعظم نریندر مودی کے تیسرے دور حکومت کے دوران ان کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن گیا ہے۔ چند ماہ قبل بھی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے خود کو متعارف کرانے والی نوجوانوں کی تحریک کے احتجاج کے بعد مودی حکومت کے وزیر تعلیم کو امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

جمعرات کو احتجاج صرف نئی دہلی تک محدود نہیں رہا۔ انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کی جانب سے جاری مناظر میں جنوبی ریاست تلنگانہ میں کانگریس کے درجنوں کارکنوں کو احتجاجی مارچ کرتے دیکھا گیا۔
مشرقی ریاست بہار میں اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتا دل نے بھی اسی معاملے پر مظاہرہ کیا۔
ٹیکنالوجی کے مرکز سمجھے جانے والے شہر بنگلورو میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی یوتھ موومنٹ کے سیکڑوں کارکنوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ایسے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا، ’ہر نام اہم ہے، ہر ووٹ اہم ہے‘ اور ’جمہوریت کا قتل بند کرو‘۔
بنگلورو کے احتجاج میں 22 سالہ آرکیٹیکچر کی طالبہ خوشی شری واستوا نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ دینے کا حق جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جو لوگ ووٹ دینا چاہتے ہیں اور ملک کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں، انہیں ووٹ کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
اس احتجاجی مہم میں معروف یوٹیوبر اور سیاسی تبصرہ نگار دروو راتھے کی شرکت بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ وہ ووٹر فہرستوں کے معاملے پر احتجاج میں شرکت کی اپیل کر چکے ہیں اور اسے جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد قرار دیا ہے۔
دریں اثنا، نئی دہلی میں بدھ کے روز پولیس نے کانگریس رہنما راہول گاندھی، ان کی بہن پریانکا گاندھی واڈرا اور دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا تھا۔
کانگریس کے مطابق پولیس نے اس دوران ’بہت زیادہ طاقت‘ استعمال کی۔ اپوزیشن رہنما الیکشن کمیشن کے معاملے پر احتجاج کے لیے جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
راہول گاندھی کی پولیس اہلکاروں کی جانب سے اٹھا کر بس میں منتقل کیے جانے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں، جبکہ پریانکا گاندھی کو دیگر ارکان کے ساتھ سڑک پر بیٹھے دیکھا گیا تھا۔
دہلی پولیس نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کا مقصد پولیس کو بدنام کرنا ہے۔
دہلی پولیس کی سینئر افسر شریشٹی پانڈے نے اے این آئی سے گفتگو میں کہا کہ پولیس اہلکار موقع پر موجود ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ تمام قانونی ذمہ داریاں پوری ہوں اور کوئی غیر قانونی یا غیر ضروری کارروائی نہ کی جائے۔
دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ نے بھی اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا۔ انہوں نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ الزامات ایک ’غیر ذمہ دار اور انتشار پسند اپوزیشن‘ کی جانب سے لگائے جا رہے ہیں اور ان میں کوئی بنیاد نہیں۔
ووٹر فہرستوں میں نظرثانی کا یہ عمل ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ یا ایس آئی آر کہلاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس کا مقصد ووٹر فہرستوں کی جانچ اور انہیں درست کرنا ہے، تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران اہل ووٹرز کے نام بھی فہرستوں سے خارج کیے جا رہے ہیں۔
اس معاملے پر تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا کہ فہرستوں کی تبدیلی سے لاکھوں افراد کے ووٹ کے حق کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
جمعرات کے احتجاج کے ساتھ انڈیا میں ووٹر فہرستوں کے معاملے پر سیاسی اور عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ حکومت اور الیکشن کمیشن اس عمل کو انتخابی فہرستوں کی درستگی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔







