اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ نوبیل کمیٹی کیا فیصلہ کرے گی، تاہم ان کے خیال میں کمیٹی کی ایک شہرت یہ بھی ہے کہ وہ ان جیسے لوگوں کو انعام دینے سے گریز کرتی ہے۔ 2026 کا نوبیل امن انعام 9 اکتوبر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں اعلان کیا جانا ہے۔

ٹرمپ گزشتہ سال دوبارہ امریکی صدر بننے کے بعد کئی مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرچکے ہیں کہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے ان کی کوششوں کے باعث انہیں نوبیل امن انعام دیا جانا چاہیے۔ تازہ گفتگو میں بھی انہوں نے اپنی انتظامیہ کے دور میں مختلف بین الاقوامی تنازعات میں مداخلت اور سفارتی کوششوں کو اپنی اہلیت کی بنیاد قرار دیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ رواں دورِ صدارت میں انہوں نے 8 مختلف تنازعات میں کردار ادا کیا اور اسی بنیاد پر انہیں امن انعام کا مستحق سمجھا جانا چاہیے، بعض ممالک کے رہنماؤں نے بھی ان کا نام نوبیل امن انعام کے لیے تجویز کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کمبوڈیا، اسرائیل اور پاکستان کے رہنماؤں کی جانب سے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم ان نامزدگیوں کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہے۔ نوبیل امن انعام کے لیے نامزد افراد کی مکمل فہرست کئی دہائیوں تک عام نہیں کی جاتی۔

ٹرمپ نے گزشتہ سال کے نوبیل امن انعام کی فاتح اور وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کا بھی حوالہ دیا۔ امریکی صدر کے مطابق ماچاڈو نے رواں سال جنوری میں اپنا 2025 کا نوبیل تمغہ انہیں پیش کیا تھا اور اس موقع پر ان کی امن کوششوں کو سراہا تھا۔

ماریا کورینا ماچاڈو نے ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے حوالے سے امریکی حمایت اور اپنے سیاسی مؤقف کے تناظر میں انہیں نوبیل امن انعام کا تمغہ پیش کیا تھا۔ ٹرمپ نے اس واقعے کو بھی اپنے دعوے کی تائید کے طور پر پیش کیا کہ وہ امن انعام کے مستحق ہیں۔

تاہم ٹرمپ کے بعض تنازعات کے حل سے متعلق دعووں پر متعلقہ فریقوں کی جانب سے اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق جن تنازعات میں ٹرمپ نے اپنی سفارتی کامیابی کا حوالہ دیا، ان میں بعض مقامات پر دوبارہ لڑائی شروع ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی امن معاہدہ تاحال طے نہیں ہوسکا۔

ایران کے معاملے میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو امن کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار رہی ہے۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کی جانب سے اپنے عالمی کردار کو نوبیل امن انعام کے لیے بنیاد قرار دینے کے دعوے پر سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔

رواں سال نوبیل امن انعام کے لیے مختلف شخصیات اور اداروں کے نام بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔ ان میں پوپ لیو، بین الاقوامی فوجداری عدالت، عالمی عدالت انصاف اور فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز سمیت دیگر نام شامل ہیں۔ تاہم حتمی فیصلہ ناروے کی نوبیل کمیٹی ہی کرے گی۔

ناروے کی نوبیل کمیٹی کے سیکریٹری کرسٹیان برگ ہارپ ویکن نے بھی حالیہ گفتگو میں کہا ہے کہ کمیٹی موجودہ عالمی حالات اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی نظام کے تناظر میں ایسے اقدامات پر نظر رکھ رہی ہے جو امن، عالمی تعاون اور تنازعات کے خاتمے کے مقاصد سے ہم آہنگ ہوں۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی بحران کے باوجود امن انعام کی اہمیت برقرار ہے۔

نوبیل امن انعام کے اعلان سے قبل امیدواروں کے حوالے سے مختلف اندازے اور تجزیے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم نوبیل کمیٹی کے فیصلے سے پہلے کسی امیدوار کی کامیابی یقینی قرار نہیں دی جاسکتی۔ 2026 کے انعام کا اعلان جمعہ 9 اکتوبر کو کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نوبیل امن انعام کے اعلان میں چند گھنٹے باقی ہیں اور مختلف عالمی شخصیات و اداروں کے نام ممکنہ امیدواروں کے طور پر زیرِ بحث ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی اہلیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، تاہم خود یہ بھی تسلیم کیا کہ حتمی فیصلہ ناروے کی نوبیل کمیٹی کو کرنا ہے۔