عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائجیریا میں عیسائیوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر سخت ردعمل دیتے ہوئے فوری فوجی کارروائی کی دھمکی دی۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ اگر نائجیریا نے ملک میں عیسائیوں کے قتل عام کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو "تیز فوجی کارروائی" کے لیے تیاری رکھی جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ نائجیریا میں عیسائی بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم زیادہ تر متاثرین مسلمان ہیں۔
مرکزی نائجیریا میں اکثر مسلم چرواہوں اور عیسائی کسانوں کے درمیان زمین اور پانی کے وسائل پر جھڑپیں ہوتی ہیں، جب کہ شمال مغربی علاقوں میں مسلح گروہ دیہات پر حملے اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتے ہیں۔
امریکی مانیٹرنگ ادارے ACLED کے سینئر تجزیہ کار لیڈ سیروٹ کے مطابق بوکو حرام اور داعشِ مغربی افریقہ جیسے گروہ اپنے حملوں کو عیسائیوں کے خلاف ظاہر کرتے ہیں، لیکن دراصل ان کا تشدد بے تمیز ہوتا ہے اور پوری برادریوں کو متاثر کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نائجیریا میں پرتشدد واقعات مذہبی انتہا پسندی کے علاوہ سیاسی طاقت، زمین کے تنازعات، نسل، قبائلی وابستگی اور بدامنی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق رواں سال نائجیریا میں شہریوں پر 1923 حملوں میں سے صرف 50 حملے مذہبی بنیادوں پر عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے تھے۔ سیروٹ نے کہا کہ بعض امریکی حلقوں میں گردش کرنے والا یہ دعویٰ کہ 2009 سے اب تک 1 لاکھ عیسائی مارے گئے، اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکی اس وقت سامنے آئی جب واشنگٹن نے نائجیریا کو دوبارہ ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جو مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں۔ اس فہرست میں چین، میانمار، شمالی کوریا، روس اور پاکستان بھی شامل ہیں۔
نائجیریا کے صدر بولا احمد تینوبو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نائجیریا مذہبی رواداری کا پابند ہے اور حکومت نے ہمیشہ دونوں مذاہب کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
گزشتہ ہفتے تینوبو نے فوجی قیادت میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک عیسائی جنرل کو نیا دفاعی سربراہ مقرر کیا۔
مزید پڑھیں: ’مسیحیوں کے قتل عام کا الزام‘، ٹرمپ کا نائیجیریا میں فوجی کارروائی کے لیے تیاری کا حکم
دارالحکومت ابوجا میں چرچ جانے والے کچھ عیسائیوں نے امریکی مداخلت کی حمایت کی۔ ایک مقامی کاروباری خاتون جولیئٹ سور نے کہا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کے لیے آنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
سلامتی ماہرین کے مطابق اگر امریکی فضائی کارروائی ہوتی ہے تو وہ چھوٹے گروہوں کو وسیع علاقوں میں نشانہ بنانے کی کوشش کرے گی، تاہم یہ مشکل مشن ہوگا کیونکہ امریکا نے گزشتہ سال نائیجر سے اپنے فوجی دستے واپس بلا لیے تھے، جو نائجیریا کے شمال میں واقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروہ اکثر نائجیریا، نائیجر، چاڈ اور کیمرون کے درمیان نقل و حرکت کرتے ہیں، لہٰذا کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی کے لیے نائجیریا کی حکومت اور فوجی تعاون ناگزیر ہوگا، باوجود اس کے کہ ٹرمپ نے نائجیریا کی فوجی امداد بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔







