امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے بڑی نیوی ہے۔ 11 نیوکلیئر ایئرکرافٹ کیریئرز یعنی ایسے بڑے جنگی جہاز جو ایٹمی انرجی سے چلتے ہیں، 90 ڈسٹرائرز اور کروزرز یعنی میزائل لے جانے اور دفاع کرنے والے جنگی جہاز،

70 سے زیادہ سب میرینز یعنی پانی کے اندر چلنے والی آبدوزیں، اور تقریباً 2 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ فوجی۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ ایک 21 میل چوڑے سمندری راستے کو مکمل کنٹرول نہیں کر سکتا۔

یہ راستہ ہے اسٹرائیٹ آف ہرمز۔ امریکی نیوی ہرمز کھولنے میں ناکام کیوں ہے؟ اور ایران کی حکمت عملی اینٹی ایکسس ایریا ڈینائل یعنی اے ٹو اے ڈی کیا ہے؟ امریکہ کی نیوی زیادہ تر بلو اوشن وارفیئر یعنی کھلے سمندر کی جنگ کے لیے بنائی گئی ہے۔

لیکن اسٹرائیٹ آف ہرمز اس کے بالکل الٹ ہے۔ کچھ جگہوں پر صرف 21 میل چوڑا، اور شپنگ لینز یعنی جہازوں کے چلنے کا اصل راستہ صرف 2 سے 3 میل ہوتا ہے۔

اب ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ ایران نے امریکہ جیسی بڑی نیوی بنانے کے بجائے ایک الگ طریقہ اپنایا ہے جسے  اے ٹو اے ڈی یعنی اینٹی ایکسس ایریا ڈینائل کہتا ہے ۔

اس کے لیے ایران کے پاس مختلف ہتھیار بھی ہیں، پہلا ہے اینٹی شپ میزائل، یہ ایسے میزائل ہیں جو خاص طور پر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر نور میزائل، جس کی رینج تقریباً 170 کلومیٹر ہے۔

دوسرا ہے کروز میزائل، یہ زمین یا سمندر سے فائر ہوتے ہیں اور لمبے فاصلے تک جا سکتے ہیں، بعض 700 کلومیٹر سے زیادہ۔ تیسرا ہے بیلسٹک اینٹی شپ میزائل، یہ بہت تیز رفتاری سے اوپر جا کر نیچے گرتے ہیں اور چلتے ہوئے جہاز کو بھی ہٹ کر سکتے ہیں۔

چوتھا ہے سمندری بارودی سرنگیں یعنی مائنز، یہ پانی میں چھپائی جاتی ہیں اور جہاز کے گزرنے پر پھٹ جاتی ہیں۔

ایران کے پاس ہزاروں کی تعداد میں مختلف قسم کی مائنز موجود ہیں۔ پانچواں ہےبہت چھوٹی  سب میرینز یعنی آبدوزیں جو  کم گہرے پانی میں آسانی سے چھپ  جاتی ہیں۔

چھٹا ہے فاسٹ اٹیک بوٹس، یہ چھوٹی اور بہت تیز رفتار کشتیاں ہوتی ہیں، 60 سے 70 ناٹس یعنی بہت زیادہ اسپیڈ پر چلتی ہیں۔ یہ ایک ساتھ گروپ میں حملہ کرتی ہیں۔ اب امریکی نیوی کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بڑا جنگی جہاز ایک وقت میں محدود تعداد میں میزائل یا ٹارگٹس ہی ہینڈل کر سکتا ہے۔

اگر ایک ساتھ بہت زیادہ حملے آ جائیں تو سسٹم اوورلوڈ ہو جاتا ہے۔ یعنی دفاعی نظام دباؤ میں آ کر سب کو روک نہیں پاتا۔