برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف نے بتایا کہ مشتبہ شوٹر (رحمان اللہ) کو امریکہ آنے کی اجازت اس لیے دی گئی تھی کیونکہ وہ ماضی میں امریکی حکومت کے لیے، بشمول سی آئی اے، کام کر چکے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ستمبر 2021 میں شوٹر کو اس کے ماضی کے کام کی بنیاد پر امریکہ لایا گیا تھا۔ جان ریٹکلیف کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بائیڈن کے تباہ کن انخلا کے تناظر میں، بائیڈن انتظامیہ نے مبینہ شوٹر کو ستمبر 2021 میں امریکہ لانے کا یہ جواز پیش کیا کہ اُس نے امریکی حکومت،بشمول سی آئی اے، کے ساتھ قندھار میں ایک پارٹنر فورس کے رُکن کے طور پر کام کیا تھا۔
FBI Director Kash Patel said a search warrant had been executed at the National Guard shooting suspect s last known address in Washington state. Based on what was found at the address, law enforcement was able to find people associated with him in San Diego.
— CBS News (@CBSNews) November 27, 2025
The suspect, who is… pic.twitter.com/0ulKyMidwq
ایف بی آئی حکام نے فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والی نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کی شناخت 20 سالہ سارہ بیکسٹارم اور 24 سالہ اینڈریو وولف کے طور پر کی ہے۔
اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل نے کہا کہ وہ حملہ آور کی رہائش گاہ تک بھی پہنچ چکے ہیں جہاں سے بہت سے الیکٹرانک آلات بشمول موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور آئی پیڈز کو قبضے میں لیا گیا ہے اور ان کے تجزیے کا عمل جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکی حکام شواہد کی روشنی میں امریکہ اور دنیا بھر میں تفتیش کے لیے ہر ممکن مقام پر جائیں گے۔
یو ایس اٹارنی جینین پیرو نے بتایا کہ حملہ آور نے کارروائی کے لیے سمتھ ویسن 257 ریوالور استعمال کیا۔
ڈی سی میٹروپولیٹن پولیس کے افسر جیف گیرول نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تنہا حملہ آور نے فائر آرم اٹھایا اور ماس ٹرانزٹ سٹیشن پر گشت کرنے والے نیشنل گارڈ کے تین اہلکاروں پر حملہ کیا۔
حملہ آور کی بندوق میں چار راؤنڈ گولیاں تھیں اور ایک خاتون اہلکار پہلا نشانہ بنی۔خاتون اہلکار کو دو گولیاں لگیں، وہ فی الفور گر گئی اور حملہ آور نے اس کی بندوق اٹھا کر فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔
ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل کے مطابق زخمی ہونے والے نیشنل گارڈ کے اہلکار انتہائی نازک حالت میں ہیں۔
حکام نے کہا کہ اس حملے کا محرک فی الحال معلوم کرنا قبل از وقت ہوگا، اور اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ حملہ آور واشنگٹن میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھا۔
اس سے قبل امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے مشتبہ حملہ آور کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے طور پر کی تھی۔
U.S. Attorney Jeanine Pirro said the National Guard shooting victims — Spc. Sarah Beckstrom and Pfc. Andrew Wolfe — were sworn into duty less than 24 hours before the attack. https://t.co/DW6x1i4PS3 pic.twitter.com/IXIyZsfCQj
— CBS News (@CBSNews) November 27, 2025
بی بی سی کے مطابق مشتبہ شخص کو نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کی جوابی کارروائی کے بعد زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا اور اس وقت وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور کو 8 ستمبر 2021 کو افغان شہریوں کے لیے مختص بائیڈن دور کے پروگرام آپریشن آلیز ویلکم کے تحت امریکہ لایا گیا تھا۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق اس پروگرام کے تحت ہزاروں ایسے افغان شہریوں کو افغانستان سے امریکہ لایا گیا، جن کے بارے میں سکیورٹی کلیئرنس مکمل نہیں کی گئی تھی۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی اپنے ایک ویڈیو پیغام میں مشتبہ حملہ آور کو ایک غیر ملکی جو افغانستان، زمین پر جہنم، سے ہمارے ملک میں داخل ہوا قرار دیا اور اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ Operation Allies Welcome وہ قانونی طریقہ کار تھا جس کے تحت بائیڈن انتظامیہ نے اگست 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سینکڑوں افغان شہریوں کے ملک سے انخلا کے لیے استعمال کیا۔
A CIA spokesperson told CBS News on Thursday that the Afghan suspect in the shooting of two National Guardsmen "previously worked with the U.S. government, including CIA, as a member of a partner force in Kandahar that ended in 2021" following the U.S. military withdrawal from…
— CBS News (@CBSNews) November 27, 2025
ان میں سے زیادہ تر وہ افراد تھے جنھوں نے گزشتہ 20 سال کے دوران افغانستان میں امریکہ اور اس کی افواج کی کسی نہ کسی صورت میں مدد کی تھی اور طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد انھیں ممکنہ خطرات لاحق تھے۔
بائیڈن انتظامیہ کے پروگرام کے تحت امریکہ لائے گئے بہت سے افغان شہریوں کو خصوصی امیگریشن ویزا جاری کیا گیا کیونکہ وہ گزشتہ 20 برسوں میں افغانستان میں موجود امریکہ کی افواج کے ساتھ کام کر چکے تھے۔
اسی طرح کچھ افغان شہریوں کو عارضی انسانی ہمدردی سٹیٹس (پیرول) پر امریکہ لایا گیا، جب کہ آٹھ ہزار افراد کو ایک اور پروگرام Temporary Protected Status پر امریکہ لایا گیا، جسے موجودہ صدر ٹرمپ نے رواں برس کے آغاز پر ختم کر دیا تھا۔
یہ واقعہ پیش آنے کے بعد امریکہ کے شہریت اور امیگریشن سروسز کے محکمے نے سکیورٹی اور جانچ کے پروٹوکولز کے جائزے تک تمام افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی۔






