برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف نے  بتایا کہ مشتبہ شوٹر (رحمان اللہ) کو امریکہ آنے کی اجازت اس لیے دی گئی تھی کیونکہ وہ ماضی میں امریکی حکومت کے لیے، بشمول سی آئی اے، کام کر چکے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ستمبر 2021 میں شوٹر کو اس کے ماضی کے کام کی بنیاد پر امریکہ لایا گیا تھا۔ جان ریٹکلیف کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بائیڈن کے تباہ کن انخلا کے تناظر میں، بائیڈن انتظامیہ نے مبینہ شوٹر کو ستمبر 2021 میں امریکہ لانے کا یہ جواز پیش کیا کہ اُس نے امریکی حکومت،بشمول سی آئی اے، کے ساتھ قندھار میں ایک پارٹنر فورس کے رُکن کے طور پر کام کیا تھا۔

ایف بی آئی حکام نے فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والی نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کی شناخت 20 سالہ سارہ بیکسٹارم اور 24 سالہ اینڈریو وولف کے طور پر کی ہے۔

اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل نے کہا کہ وہ حملہ آور کی رہائش گاہ تک بھی پہنچ چکے ہیں جہاں سے بہت سے الیکٹرانک آلات بشمول موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور آئی پیڈز کو قبضے میں لیا گیا ہے اور ان کے تجزیے کا عمل جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی حکام شواہد کی روشنی میں امریکہ اور دنیا بھر میں تفتیش کے لیے ہر ممکن مقام پر جائیں گے۔

یو ایس اٹارنی جینین پیرو نے بتایا کہ حملہ آور نے کارروائی کے لیے سمتھ ویسن 257 ریوالور استعمال کیا۔

ڈی سی میٹروپولیٹن پولیس کے افسر جیف گیرول نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تنہا حملہ آور نے فائر آرم اٹھایا اور ماس ٹرانزٹ سٹیشن پر گشت کرنے والے نیشنل گارڈ کے تین اہلکاروں پر حملہ کیا۔

حملہ آور کی بندوق میں چار راؤنڈ گولیاں تھیں اور ایک خاتون اہلکار پہلا نشانہ بنی۔خاتون اہلکار کو دو گولیاں لگیں، وہ فی الفور گر گئی اور حملہ آور نے اس کی بندوق اٹھا کر فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔

ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل کے مطابق زخمی ہونے والے نیشنل گارڈ کے اہلکار انتہائی نازک حالت میں ہیں۔

حکام نے کہا کہ اس حملے کا محرک فی الحال معلوم کرنا قبل از وقت ہوگا، اور اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ حملہ آور واشنگٹن میں اپنی اہلیہ اور  پانچ بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھا۔

اس سے قبل امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے مشتبہ حملہ آور کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے طور پر کی تھی۔

بی بی سی  کے مطابق مشتبہ شخص کو نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کی جوابی کارروائی کے بعد زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا اور اس وقت وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور کو 8 ستمبر 2021 کو افغان شہریوں کے لیے مختص بائیڈن دور کے پروگرام آپریشن آلیز ویلکم  کے تحت امریکہ لایا گیا تھا۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق اس پروگرام کے تحت ہزاروں ایسے افغان شہریوں کو افغانستان سے امریکہ لایا گیا، جن کے بارے میں سکیورٹی کلیئرنس مکمل نہیں کی گئی تھی۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی اپنے ایک ویڈیو پیغام میں مشتبہ حملہ آور کو ایک غیر ملکی جو افغانستان، زمین پر جہنم، سے ہمارے ملک میں داخل ہوا  قرار دیا اور اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔

واضح رہے کہ Operation Allies Welcome وہ قانونی طریقہ کار تھا جس کے تحت بائیڈن انتظامیہ نے اگست 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سینکڑوں افغان شہریوں کے ملک سے انخلا کے لیے استعمال کیا۔

ان میں سے زیادہ تر وہ افراد تھے جنھوں نے گزشتہ 20 سال کے دوران افغانستان میں امریکہ اور اس کی افواج کی کسی نہ کسی صورت میں مدد کی تھی اور طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد انھیں ممکنہ خطرات لاحق تھے۔

بائیڈن انتظامیہ کے پروگرام کے تحت امریکہ لائے گئے بہت سے افغان شہریوں کو خصوصی امیگریشن ویزا جاری کیا گیا کیونکہ وہ گزشتہ 20 برسوں میں افغانستان میں موجود امریکہ کی افواج کے ساتھ کام کر چکے تھے۔

اسی طرح کچھ افغان شہریوں کو عارضی انسانی ہمدردی سٹیٹس (پیرول) پر امریکہ لایا گیا، جب کہ آٹھ ہزار افراد کو ایک اور پروگرام Temporary Protected Status پر امریکہ لایا گیا، جسے موجودہ صدر ٹرمپ نے رواں برس کے آغاز پر ختم کر دیا تھا۔

یہ واقعہ پیش آنے کے بعد امریکہ کے شہریت اور امیگریشن سروسز کے محکمے نے سکیورٹی اور جانچ کے پروٹوکولز کے جائزے تک تمام افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی۔