تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہی۔ 

انہوں نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز میں فائرنگ کی، جو کہ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ فائرنگ کا نشانہ ایک فرانسیسی بحری جہاز اور برطانیہ کا ایک مال بردار جہاز تھا، جسے انہوں نے تشویش ناک قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی نمائندے اسلام آباد، پاکستان جا رہے ہیں اور وہ کل شام تک مذاکرات کے لیے وہاں موجود ہوں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا، حالانکہ امریکی ناکہ بندی کے باعث یہ راستہ پہلے ہی بند ہو چکا تھا۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس ناکہ بندی سے ایران خود ہی نقصان اٹھا رہا ہے اور روزانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا خسارہ برداشت کر رہا ہے، جب کہ امریکہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت متعدد بحری جہاز امریکا کی ریاستوں ٹیکساس، لوزیانا اور الاسکا کی جانب رواں دواں ہیں تاکہ توانائی کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک منصفانہ اور معقول معاہدے کی پیشکش کر رہا ہے اور امید ہے کہ ایران اسے قبول کرے گا۔

انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو امریکا ایران کے بنیادی ڈھانچے، بشمول پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کے ساتھ سخت مؤقف اپنایا جائے اور ماضی میں جو اقدامات نہیں کیے گئے، وہ اب کیے جائیں گے۔ انہوں نے اسے ایرانی قتل مشین کے خاتمے کا وقت قرار دیا۔