تفصیلات کے مطابق ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی سے خطاب کے دوران ہیگستھ نے ڈیموکریٹ نمائندے جان گارامنڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایران میں امریکی فوجی حکمتِ عملی ناکام رہی ہے اور اس نے ملک کو ایک دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

ہیگستھ نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات ہمارے فوجیوں کے لیے لاپرواہ ہیں۔ آپ کس کے لیے خوشی منا رہے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بیانات مشن کو کمزور کرتے ہیں۔

دریں اثنا ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا جنگ جیت رہا ہے، تو انہوں نے اسے حیران کن فوجی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بالکل۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا امریکا نے تنازع شروع کرنے سے قبل اس امکان پر غور کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے، ہیگستھ نے کہا کہ محکمہ دفاع نے اس خطرے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا۔

امریکا کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ صدر کی جانب سے 1.5 ٹریلین ڈالر کے فوجی بجٹ کی درخواست موجودہ لمحے کی سنگینی کی عکاسی کرتی ہے۔

کانگریس کے سامنے بیان دیتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے بائیڈن انتظامیہ پر دفاعی شعبے میں ناکافی سرمایہ کاری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان کی وزارت نظام کے اس زوال کو پلٹ کر دوبارہ ملک کو ’جنگی تیاری‘ کی حالت میں لا رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ بجٹ تاریخی اور جنگ لڑنے کی صلاحیت پر مبنی ہے اور وہ ایران کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی غیر معمولی کامیابی پر بات کرنے کے منتظر ہیں۔

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کیے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت سب سے بڑے مخالف کانگریس کے کچھ ڈیموکریٹس اور چند ریپبلکنز کے حوصلہ شکن بیانات ہیں، جو جنگ کے صرف دو ماہ بعد ہی اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ میری نسل جانتی ہے کہ ہم عراق میں کتنے عرصے رہے اور افغانستان میں کتنی دیر تک جنگ جاری رہی۔