یہ ملاقات جمعرات کے روز متوقع ہے اور اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ تقریباً ایک سال کے عرصے میں کسی بھی امریکی کابینہ کے رکن کی پوپ سے یہ پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں عالمی امن، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔

 مارکو روبیو اس سے قبل مئی 2025 میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ بھی پوپ لیو سے ملاقات کر چکے ہیں، تاہم اس بار ملاقات ایک حساس عالمی پس منظر میں ہو رہی ہے جس نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اپنے دورۂ اٹلی کے دوران امریکی وزیر خارجہ ویٹیکن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ پیٹرو پیرولن سے بھی ملاقات کریں گے، جہاں دوطرفہ تعلقات، مذہبی آزادی اور عالمی تنازعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ اس کے علاوہ وہ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی سے بھی ملاقات کریں گے۔

اطالوی حکام کے مطابق مارکو روبیو نے اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی سے ملاقات کی درخواست بھی کی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہیں،یہ ملاقاتیں یورپ اور امریکا کے درمیان پالیسی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب پوپ لیو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ہفتوں میں سخت بیانات کا تبادلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پوپ نے امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں ایران کے خلاف ممکنہ جنگ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

مارکو روبیو کا یہ دورہ اطالوی میڈیا کے مطابق امریکا اور ویٹیکن کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنے اور تعلقات میں بہتری لانے کی ایک اہم سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں پوپ کی پالیسیوں کو کمزور قرار دیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ بیان بازی اس وقت سامنے آئی جب پوپ افریقہ کے چار ملکی دورے پر تھے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔

واضح رہے کہ اگر یہ ملاقات مثبت نتائج دیتی ہے تو یہ نہ صرف دونوں فریقین بلکہ عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ پوپ لیو جمعہ کے روز بطور روحانی پیشوا اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کا ایک سال مکمل ہونے کی تقریب بھی منائیں گے۔ وہ 8 مئی 2025 کو اس منصب پر فائز ہوئے تھے، اور اس دوران انہوں نے عالمی تنازعات کے حل اور امن کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔