باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکی پالیسی سازوں کے غلط اندازوں اور دباؤ کی حکمت عملی کے باعث تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو قیمت 140 ڈالر تک بھی جا سکتی ہے۔
انہوں نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی تیل پیداوار اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہونے کی باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ “تین دن گزر چکے ہیں، نہ کوئی کنواں خشک ہوا ہے اور نہ ہی پیداوار میں کوئی رکاوٹ آئی ہے، اور آئندہ 30 دنوں میں بھی ایسا کچھ ہونے کا امکان نہیں”، قالیباف نے واضح کیا۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے اقتصادی دباؤ اور ناکہ بندی کی دھمکیاں دراصل عالمی منڈی میں بے یقینی پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں، جس کا براہ راست اثر توانائی کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے اور اس کا نقصان دنیا بھر کے صارفین کو اٹھانا پڑے گا۔
دوسری جانب، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ برطانوی خام تیل کی قیمت میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ 121 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
مزید پڑھیں: کیا ایران کے تیل کے ذخائر بھرنے کے قریب ہیں؟
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی پابندیاں اور سپلائی کے خدشات تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگر سیاسی تناؤ میں کمی نہ آئی تو آنے والے دنوں میں توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی وزیر خزانہ نے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ سخت پابندیوں کے باعث ایران کو اپنی تیل پیداوار کم کرنا پڑے گی کیونکہ اس کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت محدود ہو جائے گی، تاہم ایران نے اس موقف کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔







