رپورٹ کے مطابق توسکا نامی جہاز کے عملے کے مزید 22 ایرانی ارکان تاحال زیرِ حراست ہیں، اور ایرانی حکام ان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ توسکا کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس نے آبنائے ہرمز سے اپنے طے شدہ گزر کے دوران امریکی احکامات پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔

13 اپریل سے امریکی فوج نے آبنائے ہرمز پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جس کے ردِعمل میں ایران نے اس تنگ آبی گزرگاہ سے زیادہ تر بحری جہازوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے، سوائے ان ممالک کے جہازوں کے جنہوں نے تہران کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے۔