غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ڈرون نے میزائل فائر کیا، جو گاڑی پر براہِ راست لگا اور گاڑی مکمل طور پر جل کر راکھ بن گئی۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے نبطیہ علاقے میں کارروائی کے دوران عباس حسن کارکی کو ہلاک کر دیا ہے، جسے وہ حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے لاجسٹکس کمانڈر کے طور پر شناخت کرتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے فوجی کیمپ اور میزائل تیار کرنے کی سائٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

مزید یہ کہ حزب اللہ کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی تصدیق یا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی این این اے کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مرجعیون ضلع میں کرم المراح محلے پر بھی فضائی حملہ کیا، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

گزشتہ روز اسرائیلی فورسز نے مشرقی علاقے بقا میں فضائی کارروائی کر کے دو افراد کو ہلاک کیا تھا، جب کہ عرب صالح نامی قصبے میں ایک اور حملے میں دو افراد، جن میں ایک ضعیف خاتون بھی شامل تھیں، شہید ہوئیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان کے پانچ سرحدی ٹھکانوں پر اب بھی موجود ہے۔ یہ جنگ بندی گزشتہ سال دو ماہ جاری رہنے والی کھلی جنگ کے بعد نومبر میں امریکی ثالثی سے طے پائی تھی۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی جارحیت پر امریکہ اور فرانس سے مداخلت کی اپیل کی تھی، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔

گزشتہ ماہ جنوبی لبنان پر ایک اور اسرائیلی ڈرون حملے میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں تین بچے بھی شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد صدر عون نے واشنگٹن سے اسرائیل کو روکنے کے لیے مزید کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ حکومت نے اگست میں وعدہ کیا تھا کہ سال کے اختتام تک حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے گا، تاہم حزب اللہ کے نائب سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا کہ جب تک اسرائیلی حملے اور قبضہ جاری ہے، حزب اللہ اپنے دفاعی ہتھیار نہیں ڈالے گی۔

واضح رہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان امریکی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔