خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ایران اور تجارتی معاملات سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر گفتگو کریں گے۔

واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات گزشتہ عرصے میں تجارتی ٹیرف، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور تائیوان کے مسئلے پر تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ ابتدائی طور پر مارچ کے آخر یا اپریل کے آغاز میں متوقع تھا، تاہم ایران جنگ پر توجہ مرکوز رکھنے کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’صدر شی جن پنگ کی دعوت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔‘

امریکی حکام کے مطابق، امکان ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے معاملے پر صدر شی جن پنگ پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش بھی کریں گے۔

چین ایرانی تیل خریدنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، خاص طور پر آزاد ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریوں کے ذریعے، جو ایران سے رعایتی قیمتوں پر خام تیل درآمد کرتی ہیں۔

امریکی پرنسپل ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دورہ غیر معمولی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ صرف نمائشی مقاصد کے لیے دورے نہیں کرتے، امریکی عوام اس سفر سے اپنے ملک کے لیے مزید بہتر معاہدوں کی توقع رکھ سکتے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں چین کا یہ پہلا دورہ ہوگا، جس میں بیجنگ میں ٹیمپل آف ہیون کی سیر اور ایک شاندار سرکاری ضیافت سمیت مختلف تقریبات شامل ہوں گی۔

یہ 2017 کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا چین کا پہلا دورہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔