عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق  غزہ کے لیے کیے گئے 17 ارب ڈالر کے وعدوں میں سے اب تک صرف ایک معمولی حصہ ہی موصول ہو سکا ہے، جس کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ تباہ حال فلسطینی علاقے کے مستقبل سے متعلق اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران پر ممکنہ امریکی اسرائیلی حملوں سے قبل واشنگٹن میں منعقدہ ایک کانفرنس میں خلیجی عرب ریاستوں نے غزہ کی حکمرانی اور تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔ 

اس منصوبے کے تحت حماس کے تخفیفِ اسلحہ کے بعد غزہ کی وسیع پیمانے پر تعمیرِ نو اور اسرائیلی افواج کے انخلا کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ایک امریکی حمایت یافتہ ٹکنوکریٹک ادارہ نیشنل کمیٹی برائے انتظامیہ برائے غزہ کو انتظامی کنٹرول سونپنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک وعدہ کرنے والے دس ممالک میں سے صرف تین متحدہ عرب امارات، مراکش اور امریکا نے فنڈز فراہم کیے ہیں، جب کہ مجموعی رقم ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق ایران سے متعلق کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ مالی وسائل اور سیکیورٹی خدشات کے باعث این سی اے جی  تاحال غزہ میں داخل نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ایک فلسطینی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ بورڈ آف پیس نے حماس اور دیگر دھڑوں کو آگاہ کیا ہے کہ فنڈنگ کی عدم دستیابی کے باعث این سی اے جی فی الحال غزہ میں داخل نہیں ہو سکتی۔ اس حوالے سے بورڈ کے ایلچی نکولے ملاڈینوف کے حوالے سے کہا گیا کہ  فی الحال کوئی رقم دستیاب نہیں۔

واضح رہے کہ حماس اس سے قبل متعدد بار کہہ چکی ہے کہ وہ اقتدار این سی جی اے کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے، جس کی قیادت فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث کر رہے ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد غزہ کی وزارتوں اور پولیس نظام کا کنٹرول سنبھالنا ہے۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق کمیٹی کے اراکین کو قاہرہ کے ایک ہوٹل میں امریکی اور مصری حکام کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ تاہم بورڈ آف پیس اور این سی اے جی کے نمائندوں نے اس معاملے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔

عالمی اداروں کے مطابق غزہ کی بحالی پر تقریباً 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جہاں گزشتہ دو برسوں میں اسرائیلی بمباری سے تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ منصوبہ ٹرمپ کے دیگر بین الاقوامی اقدامات کی طرح ہے، جن کے تحت وہ خود کو عالمی امن کے داعی کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم یوکرین جنگ کے خاتمے میں ناکامی اور ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے ان کی سفارتی کوششوں کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

یاد رہے کہ غزہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے ہوا، جس  کے بعد اسرائیلی کارروائیوں میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جب کہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔