ٹرمپ کی اس پوسٹ میں انہیں امریکی صدر کے 45ویں اور 47ویں عہدے پر دکھایا گیا ہے، جبکہ نائب صدر کے طور پر جے ڈی وینسکو کا نام شامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پوسٹ میں استعمال ہونے والی تصویر ویکیپیڈیا کے صفحے سے مماثلت رکھتی ہے۔
میڈیا رپورٹس اور تجزیے:
نیویارک کی میڈیا کمپنی میڈیا آئی ٹی ای کے مطابق ٹرمپ نے فاکس نیوز کے پروگرامر شان ہینیٹی کو بتایا کہ وہ وینزویلا میں آخرکار انتخابات ہونے دیں گے، لیکن پہلے وہ “تیل اور توانائی کے ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کریں گے”۔
جمعہ کو امریکا نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس میں ایک قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا گیا تاکہ وینزویلا کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی امریکی خزانے میں محفوظ کی جا سکے اور اسے امریکی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف امریکا کا سخت مؤقف ، فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز پر غور جاری: صدر ٹرمپ
وینزویلا میں امریکی کارروائی:
واضح رہے کہ امریکی افواج نے 3 جنوری کو وینزویلا میں بڑی کارروائی کی اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے فلوریڈا کے اپنے پرائیویٹ کلب مارا لاگو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکا وینزویلا کو چلائے گا‘۔
عوامی اور سوشل میڈیا ردعمل:
سوشل میڈیا صارفین نے ٹرمپ کی پوسٹ پر شدید ردعمل دیا ہے۔ جیوپولیٹیکل مصنف شنکا انسلم پیریرا نے کہا کہ، “248 سال کی امریکی تاریخ میں کسی صدر نے کبھی کسی غیر ملکی ملک پر سرکاری اختیار کا اعلان نہیں کیا۔”
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے اس اعلان سے بین الاقوامی تعلقات اور امریکا و وینزویلا کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا اور دیگر ممالک اس پر کس ردعمل کا اظہار کریں گے۔
یہ واقعہ امریکی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور متنازع قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے سیاسی اور اقتصادی نتائج آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے۔







