ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایرانی مذاکرات کار پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اتوار کے روز کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے بیانات زمینی حقائق کے برعکس ہیں اور اس نوعیت کے دعوے سنجیدہ سفارتی عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ معاہدے پر دستخط کی تقریب 14 جون کو منعقد کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ان کی سالگرہ کا دن ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اس تاریخ کے انتخاب کا مقصد سفارتی پیش رفت سے زیادہ علامتی سیاسی اہمیت اور ذاتی تشہیر حاصل کرنا ہے۔

ایرانی فوجی ذرائع نے بھی امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ اتوار کو طے پا جائے گا اور معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز تمام فریقین کے لیے کھول دی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حالات معمول پر آنے کے بعد جوہری مواد کی باقیات حاصل کرنے کا عمل مناسب وقت پر مکمل کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ پورا عمل جلد اور آسانی سے مکمل ہو جائے گا اور امریکا مستقبل میں ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

ایران کی جانب سے تازہ ردعمل کے بعد دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آ گیا ہے، جس سے مجوزہ معاہدے کے مستقبل کے بارے میں مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔