ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے امریکا کی سب سے بڑی دفاعی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا جس میں اسلحے کی پیداوار اور اس کے شیڈول پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کمپنیوں نے ‘ایکسکوئزٹ کلاس’ ہتھیاروں کی پیداوار کو چار گنا بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ کم سے کم وقت میں بڑی مقدار میں اسلحہ تیار کیا جا سکے۔

امریکی صدر نے کہا کہ پیداوار میں توسیع کا عمل دراصل اجلاس سے تین ماہ قبل ہی شروع کر دیا گیا تھا اور متعدد فیکٹریوں میں ان ہتھیاروں کی تیاری پہلے ہی جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس درمیانے اور بالائی درجے کے گولہ بارود کی ‘تقریباً لامحدود’ مقدار موجود ہے، جسے مثال کے طور پر ایران میں استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ حال ہی میں وینزویلا میں بھی استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق اس کے باوجود ان سطحوں پر مزید آرڈرز بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔

صدر کے مطابق اجلاس میں جن کمپنیوں کے سربراہان شریک ہوئے ان میں بی اے ای سسٹمز، بوئنگ، ہنی ویل ایرو اسپیس، ایل تھری ہیرس میزائل سلوشنز، لاک ہیڈ مارٹن، نارتھروپ گرومین اور ریتھیون شامل تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے اختتام پر دو ماہ بعد ایک اور ملاقات طے کی گئی ہے جبکہ امریکا کی مختلف ریاستیں نئی دفاعی فیکٹریاں قائم کرنے کے لیے بولیاں دے رہی ہیں۔