خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعہ کو سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے باعث عالمی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

عدالت نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدرِ امریکا کو یہ اختیار فراہم نہیں کرتا کہ وہ بغیر کانگریس کی منظوری کے ٹیرف عائد کر سکیں۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسی کے لیے بڑا عدالتی دھچکا ہے، کیونکہ ٹیرف ان کے اقتصادی ایجنڈے کا ایک اہم ہتھیار سمجھے جاتے تھے۔

فیصلے سے رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے اور اس نے نئی حد مقرر کر دی ہے کہ صدر کون سی پالیسی کانگریس کی منظوری کے بغیر نافذ کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیے تھے۔ گزشتہ ماہ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر عدالت نے امریکا کے خلاف فیصلہ دیا تو ہم مشکل میں پڑ جائیں گے۔