واضح رہے کہ یہ رواں سال دوسرا موقع ہے جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی کسی اہم پالیسی کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس سے قبل فروری میں عدالت نے ان کے وسیع پیمانے پر عائد کیے گئے عالمی ٹیرفس کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکا میں پیدا ہونے والے بچے کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی نہ ہو تو ایسے بچے کو امریکی شہریت نہ دی جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں 1898 کے تاریخی مقدمے یونائیٹڈ اسٹیٹس بمقابلہ وونگ کم آرک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے امریکی عدالتیں اس اصول کو تسلیم کرتی آئی ہیں کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے افراد کو پیدائشی شہریت حاصل ہوتی ہے، اور اس مؤقف سے ہٹنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
فیصلہ تحریر کرنے والے چیف جسٹس جان رابرٹس نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی تشریح کے حق میں بہت کم شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی کانگریس شہریت کو صرف مستقل رہائشیوں کی اولاد تک محدود رکھنا چاہتی تو آئین میں اس کا واضح ذکر موجود ہوتا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ آئین میں استعمال ہونے والی اصطلاح امریکی دائرۂ اختیار کے تابع کا مطلب یہ ہے کہ صرف امریکا میں پیدا ہونا شہریت کے لیے کافی نہیں، بلکہ والدین کی امریکا سے مستقل قانونی وابستگی بھی ضروری ہے۔ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن یا عارضی ویزوں پر موجود افراد کے بچوں کو خودکار طور پر امریکی شہریت نہیں ملنی چاہیے۔
The Supreme Court has rejected President Trump’s attempt to end birthright citizenship in the U.S. by executive order, reaffirming more than a century of legal precedent and national tradition that babies born on American soil are American citizens. https://t.co/ZfABysH6EK pic.twitter.com/dEhhEiYyqL
— ABC News (@ABC) June 30, 2026
عدالت میں سماعت کے دوران انتظامیہ کے وکلا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پیدائشی شہریت کے قانون نے برتھ ٹورازم کی ایک صنعت کو فروغ دیا ہے، جس کے تحت غیر ملکی شہری اپنے بچوں کو امریکی شہریت دلوانے کے لیے امریکا کا سفر کرتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ٹھوس اعداد و شمار پیش نہیں کیے جا سکے۔
یہ مقدمہ نیو ہیمپشائر میں دائر ایک اجتماعی درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ پہنچا تھا، جس میں ایسے والدین اور بچوں نے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو چیلنج کیا تھا جن کی شہریت خطرے میں پڑ سکتی تھی۔
امریکی آئین کی 14ویں ترمیم 1868 میں خانہ جنگی کے بعد منظور کی گئی تھی، جس کا مقصد غلامی کے خاتمے کے بعد سابق غلاموں اور ان کی نسلوں کو امریکی شہریت فراہم کرنا تھا۔ اسی ترمیم کو امریکی شہریت کے حق کی بنیادی آئینی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹرمپ کی پالیسی نافذ ہو جاتی تو ہر سال امریکا میں پیدا ہونے والے تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں کی قانونی حیثیت متاثر ہو سکتی تھی، جب کہ لاکھوں خاندانوں کو اپنے بچوں کی شہریت ثابت کرنے کے لیے اضافی قانونی اور دستاویزی مراحل سے گزرنا پڑتا۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی موجودہ عدالتی مدت کا آخری بڑا فیصلہ بھی قرار دیا جا رہا ہے اور اسے امریکی شہریت، امیگریشن پالیسی اور آئینی تشریح کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ تصور کیا جا رہا ہے۔







