برطانوی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، تاہم یہ منصوبہ صرف امریکا اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں ایران کے بنیادی مطالبات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
عہدیدار کے مطابق ایران نے پاکستان کو واضح مؤقف دیا تھا کہ امریکی تجاویز میں ضروری تقاضوں کی کمی ہے اور یہ کسی متوازن معاہدے کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تاحال باقاعدہ مذاکرات کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا گیا اور موجودہ مرحلے پر بات چیت کا کوئی واضح منصوبہ بھی سامنے نہیں آیا۔
Iran views the U.S. proposal as “one-sided and unfair,” a senior official tells Reuters. Its initial response via Pakistan says the plan doesn’t meet basic requirements.#NEW #Iran #US #Reuters #MiddleEast #Geopolitics #Breaking pic.twitter.com/yMgEbqYLDa
— NewsSportzz (@NewsSportzz) March 26, 2026
خیال رہے كہ پاکستان اور ترکیہ دونوں ممالک امریکا اور ایران کے درمیان مشترکہ نکات تلاش کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم اب تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ سفارت کاری کا عمل مکمل طور پر بند نہیں ہوا اور اگر امریکا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے تو کسی حل تک پہنچنا ممکن ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران نے گزشتہ رات ثالث ممالک کے ذریعے امریکی تجاویز کا باضابطہ جواب بھجوا دیا ہے اور اب وہ واشنگٹن کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے سخت مؤقف اپنانے کے بعد مذاکرات کی راہ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، تاہم پسِ پردہ سفارتی کوششیں اب بھی جاری ہیں، جو مستقبل میں کسی ممکنہ پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں۔







