دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں قیام امن اور استحکام کے لیے 20 ہزار یا اس سے زائد امن فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ اعلان انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبینتو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کیا۔
صدر پرابووو نے کہا کہ انڈونیشیا اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے بڑے شراکت دار ممالک میں شامل ہے اور عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرتی ہے تو انڈونیشیا غزہ سمیت دنیا کے کسی بھی خطے میں 20 ہزار یا اس سے زائد امن فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔
اپنے خطاب میں انڈونیشی صدر نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیل کو بھی سیکیورٹی کی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل امن اسی وقت ممکن ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں اور باہمی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے عرب اور مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے امن فوجی فراہم کریں۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد اسرائیلی افواج کے انخلا کو ممکن بنانا اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ مسلم ممالک نہ صرف امن فوجی فراہم کریں بلکہ فلسطین میں مستقبل میں انتقال اقتدار اور تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے مالی امداد بھی دیں۔
واضع رہے کہ ابھی تک اقوام متحدہ، اسرائیل یا فلسطین کی جانب سے انڈونیشی تجویز پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیشکش عملی صورت اختیار کرتی ہے تو یہ خطے میں ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔







